دہلی اور لکھنو آج پلے آف کی امیدوں کی برقراری کے خواہاں

نئی دہلی۔ دہلی کیپٹلس اور لکھنؤ سوپر جائنٹس دونوں ایک ہی کشتی میں سوار ہیں ٹیموں کے جدول میں ہر ایک کے 12 پوائنٹس اور خالص رن ریٹ منفی ہے۔ چپچپا وکٹ پر اپنی پلے آف کی امیدوں کے ساتھ ڈی سی اور ایل ایس جی دونوں منگل کو ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں ان دو اہم پوائنٹس کو حاصل کرنے اور ناک آؤٹ جگہ کے لیے اپنے آپ کو دوڑ میں رکھنے کے لیے مد مقابل ہوں گی ۔ سن رائزرس حیدرآباد کے خلاف دس وکٹوں کی شکست کے بعد ایل ایس جی پانچ دن کے وقفے کے بعد آئی پی ایل ایکشن میں واپس آئے گی۔ ایل ایس جی کے بیٹرس آیوش بدونی کی ناٹ آؤٹ 55 رنز کی نصف سنچری اور اور نکولس پوران کے ناقابل شکست 48 رنزکو چھوڑ کر تمام بیٹرس ناکام رہے جبکہ ان کے بولروںکی جانب سے ٹریوس ہیڈ اور ابھیشیک شرما کو روکنے میں ناکامی کو ٹیم کے مالک سنجیو گوینکا کی ڈریسنگ کے تنازعہ نے مزید ہوا دی ہے ۔ عوام کی نظروں کے سامنے کپتان کے ایل راہل پر ٹیم کے مالک کے برس پڑنے کی مناظر نے ان کے لئے حالات کو مزید مشکل ترین بنادیا ہے۔ گوینکا کو راہول کے تئیں ان کے طرز عمل پر بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اکثریت کا خیال ہے کہ اس طرح کی بات چیت نجی طور پر کی جانی چاہیے، اب ایل ایس جی کے کپتان کے لیے یہ مناسب ہو گا کہ وہ تمام محکموں میں ایک مربوط کارکردگی کے ساتھ تمام صلاحیتوں سے سب کی توجہ مبذول کرائیں۔ اپنے پلے آف کے امکانات کو بڑھانے کے لیے کھیل کے معیار کو بلند کریں۔ اننگز کی شروعات میں راہول اور کوئنٹن ڈی کاک کو پاور پلے میں برق رفتار بیٹنگ کرنے اور مارکس اسٹوئنس، پوران اور بدونی کی بڑی ہٹ کرنے والی اننگز پیش کرنے کی ضرورت ہے، جو ڈومیسٹک کرکٹ سرکٹ میں ان کا ہوم گراؤنڈ ہونے کی وجہ سے مقام کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ فاسٹ بولر میانک یادیو اور بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر محسن خان کے بغیر ایل ایس جی بولنگ شعبہ میں کمزور نظر آتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یش ٹھاکر اور نوین الحق کو اسپنرزکرونل پانڈیا اور روی بشنوئی کے ساتھ ساتھ کارکردگی کو بڑھانا ہوگا۔ دوسری طرف دہلی کیپٹلس اتوارکو ایم چناسوامی اسٹیڈیم میں رائل چیلنجرز بنگلورو سے47 رنز کی شکست کے بعد ان دو پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے ایل ایس جی کی طرح بے۔