جموں میں ہر پانچواں فرد ذیابیطس سے متاثر، سستی ادویات سے مریضوں کو ریلیف کی امید
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر میں ذیابیطس، بلند فشار خون اور دل کی بیماریوں میں مسلسل اضافے کے درمیان لاکھوں مریضوں کے لیے ایک اہم راحت سامنے آئی ہے۔ یو این ایس کے مطابق نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی نے 30 ضروری ادویات کی خوردہ قیمتیں مقرر کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں دائمی بیماریوں کے علاج پر آنے والے اخراجات میں نمایاں کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ صحت ماہرین کے مطابق جموں و کشمیر میں طرز زندگی میں تبدیلی، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور غذائی عادات کے باعث ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں ادویات کی قیمتوں کو قابو میں لانے کا فیصلہ ہزاروں خاندانوں کے لیے مالی طور پر بڑی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جموں خطے میں ذیابیطس کی شرح تقریباً 18.9 فیصد جبکہ کشمیر میں 7.8 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ پری ڈائیبیٹیز کا شکار ہیں، جس سے مستقبل میں بیماری کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مریضوں کی ایک بڑی تعداد کو مستقل بنیادوں پر مہنگی ادویات خریدنا پڑتی ہیں، جس سے گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے۔این پی پی اے کی جانب سے جن ادویات کی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں ان میں ذیابیطس، بلڈ پریشر، امراض قلب اور دیگر دائمی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی متعدد اہم دوائیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وٹامن ڈی تھری اور کیلشیم جیسے عام استعمال کے سپلیمنٹس بھی قیمتوں کے ضابطے میں لائے گئے ہیں۔صحت شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات سستی ہونے سے مریضوں کے لیے علاج کا تسلسل برقرار رکھنا آسان ہوگا۔ ان کے مطابق اکثر مریض مالی مشکلات کے باعث علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں یا دواؤں کی خوراک کم کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں دل، گردوں، آنکھوں اور اعصابی نظام سے متعلق پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ چند ماہ کے دوران مرحلہ وار کیا جائے گا، جس کے بعد مریضوں کو براہ راست فائدہ پہنچنا شروع ہو جائے گا۔ این پی پی اے نے واضح کیا ہے کہ مقررہ قیمتوں میں جی ایس ٹی شامل نہیں ہوگی اور ٹیکس الگ سے نافذ ہوگا۔یو این ایس کے مطابق ماہرین نے اس فیصلے کو جموں و کشمیر جیسے خطے کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریضوں کو نہ صرف علاج تک رسائی کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے بلکہ ادویات کے اخراجات بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوتے ہیں۔ قیمتوں میں کمی سے علاج مزید قابلِ رسائی اور قابلِ برداشت بن سکے گا۔دریں اثنا دواسازی کے شعبے میں بعض جدید اینٹی ڈائیبیٹک ادویات کے نسبتاً سستے جنیرک متبادل بھی مارکیٹ میں دستیاب ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس سے مہنگے علاج تک عام مریضوں کی رسائی بڑھنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔صحت ماہرین کا ماننا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں کمی، ٹیکس مراعات اور جنیرک دواؤں کی دستیابی جیسے اقدامات مجموعی طور پر صحت عامہ کے نظام کو مضبوط بنانے اور دائمی بیماریوں سے متاثرہ افراد کا مالی بوجھ کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔










