وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانے پر زو ردیا

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع بڑھانے پر زو ردیا

77ویں ریاستی سطح کے میگا جاب میلے سے خطاب کیا ، تقریری نامے تقسیم کئے ، کیمپس میں باقاعدہ بھرتیوں اور

سری نگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے اَپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ صرف سرکاری ملازمتیں بے روزگاری کا حل نہیں ہیں لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نجی شعبے میں بھرتیوں، کاروباری مواقع اور صنعتی شراکت داری کے ذریعے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرے۔اُنہوں نے اِن باتو ں کا اِظہار امر سنگھ کالج سری نگر میں منعقدہ 77ویں ریاستی سطح کے میگا جاب میلے کی اِختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اِس پروگرام کا اِنعقاد دیش بھگت یونیورسٹی، پنجاب اور کلسٹر یونیورسٹی سری نگر نے نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی (این آئی اِی ایل آئی ٹی)، نیشنز ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (این ڈِی اے) اور مائی بھارت کے اِشتراک سے کیا تھا۔ اِس موقعہ پر وزیربرائے تعلیم سکینہ اِیتو، کمشنر سیکرٹری سکولی تعلیم رام نواس شرما،وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی سری نگر ، جموں و کشمیر کی مختلف یونیورسٹیوںکے وائس چانسلروں، صدردیش بھگت یونیورسٹی پنجاب ڈاکٹر سندیپ سنگھ، پرنسپل امر سنگھ کالج، مختلف کالجوں کے پرنسپلوں، ڈینز، اَساتذہ اورطلباء موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے اَپنے خطاب میں کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اِداروں کی ذمہ داری صرف ڈِگریاں دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں طلبأ کو تعلیم سے روزگار تک کے سفر میں مسلسل رہنمائی اور سہولیت فراہم کرنی چاہیے۔اُنہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک جموں و کشمیر کے تعلیمی اِداروں نے طالب علموں کے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بڑی حد تک اَپنی ذمہ داری پوری کردی تھی ۔ اُنہوں نے کلسٹر یونیورسٹی سری نگر اور دیش بھگت یونیورسٹی کی جانب سے میگا جاب میلے کے اِنعقاد کو سراہتے ہوئے اسے تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
وزیراعلیٰ نے جاب میلے کے حوصلہ افزا نتائج کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 5,300 رجسٹرڈ اُمیدواروں میں سے 470 نوجوانوں کو ملازمت کی پیشکش کی گئی جبکہ مزید 430 اُمیدوار بھرتی کے آخری مرحلے تک پہنچ گئے ہیں اور انہیں صرف اِنٹرویو کی کارروائی مکمل کرنا باقی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح تقریباً 900 نوجوان یا تو ملازمت حاصل کر چکے ہیں یا اس کے قریب ہیں جو اس اِبتدائی مرحلے کی ایک قابلِ ذکر کامیابی ہے۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ مستقبل میں اس نوعیت کی مزید روزگار مہمات سے ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ اُنہوں نے اس جاب میلے کو کلسٹر یونیورسٹی سری نگر کے لئے ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے جموں و کشمیر میں منظم کیمپس بھرتیوں کی بے پناہ صلاحیت ظاہر ہوتی ہے۔وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں کیمپس بھرتی کو اِدارہ جاتی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی، اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، جموں یونیورسٹی، شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی سمیت دیگر اعلیٰ تعلیمی اِداروں کو باقاعدگی سے بھرتی مہمات کا اِنعقاد کرنا چاہیے تاکہ طالب علموں کو تعلیم مکمل کرنے سے پہلے ہی روزگار کے مواقع حاصل ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ سرکاری ملازمتیں بے روزگاری کا حل نہیں ہیں۔اُنہوں نے کہا ،’’اگر ہم ہر نوجوان کو سرکاری ملازمت فراہم نہیں کر سکتے تو پھر ہماری ذمہ داری ہے کہ ان کے لئے مزید مواقع پیدا کریں۔ ہم نوجوانوں کو محض یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کہیں اور روزگار تلاش کریںبلکہ ہمیں نجی شعبے کی شمولیت، ہنر مندی کی تربیت اور صنعتی اِشتراک کے ذریعے ان کے لئے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔‘‘وزیراعلیٰ نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں صرف بہتر مواقع اور وسیع تر پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے روزگار کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا ۔اُنہوں نے حکومت کی جانب سے سٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کاروباری افراد کو وینچر کیپٹل فنڈز سے جوڑنے اور انہیں مکمل رہنمائی فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ جو نوجوان اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں انہیں ضروری ادارہ جاتی تعاون حاصل ہو۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی تاکہ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو وہی مواقع میسر آئیں جو ملک اور بیرونِ ملک کے دیگر نوجوانوں کو حاصل ہیں۔عمر عبداللہ نے بھرتی مہم کے دوران منتخب ہونے والے اُمیدواروں کو مُبارک باد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اِظہار کیا۔ اُنہوں نے ساتھ ہی بھرتی کے آخری مرحلے تک پہنچنے والے اُمیدواروں کے لئے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور اُمید ظاہر کی کہ وہ بھی جلد ملازمت حاصل کر لیں گے۔اِس سے قبل وزیراعلیٰ نے کیمپس بھرتی کے عمل کے دوران منتخب ہونے والے طلبأ میں تقرری نامے تقسیم کئے۔ اُنہوں نے نئے منتخب اُمیدواروں کو مُبارک باد دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے اور دیگر نوجوانوں کے لئے مثال بنیں گے۔اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی موجودگی میں کلسٹر یونیورسٹی سری نگر اور دیش بھگت یونیورسٹی پنجاب کے درمیان ایک مفا ہمت نامہ پر بھی دستخط کئے گئے جس کا مقصد تعلیمی تعاون کو فروغ دینا، ہنر مندی سے متعلق اَقدامات کو مضبوط بنانا اور طالب علموں کے لئے روزگار کے مواقع کو بڑھانا ہے۔اِس میگا جاب میلے میں ملک بھر سے 50 سے زائد معروف کمپنیوں نے شرکت کی جن میں خلیجی ممالک اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والی کمپنیاں بھی شامل تھیں۔اس تقریب نے گریجویٹوں، پوسٹ گریجویٹوں، ڈپلومہ ہولڈروں اور ہنر مند نوجوانوں کو موقعہ پر ہی اِنٹرویوز، سکریننگ اور بھرتی کے ذریعے براہِ راست روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے جبکہ انہیں کیریئر رہنمائی اور صنعت سے متعلق قیمتی معلومات اور تجربہ بھی فراہم کیا گیا۔