اہم سڑک منصوبوں کا معائینہ کیا، کاموں کو مقرر مدت میں مکمل کرنے کی ہدایت دی اور ضلع بھر سے آئے عوامی وفود سے ملاقات کی
گاندربل//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ضلع گاندربل کا تفصیلی دورہ کیا او راُنہوں نے وہاںمختلف عوامی پروگراموں میں شرکت کی، عوامی وفود سے ملاقات کی اور اہم ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔ اِس موقعہ پراُنہوں نے ضلع کو درپیش مسائل کا جائزہ بھی لیا۔اُنہوں نے اَپنے دورے کا آغاز کرتے ہوئے نیو بس اڈہ روڈ کی زیرتعمیر سڑک کا معائینہ کیا جو علاقے میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لئے ایک اہم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے۔ اُنہوں نے اِس منصوبے کو بروقت مکمل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ اِس سڑک کو جلد از جلدلوگوں کے لئے وقف کیا جاسکے ۔اِس موقعہ پر وزیراعلیٰ کے ہمراہ ان کے مشیر ناصر اسلم وانی،ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل جتن کشور، چیف اِنجینئر روڈز اینڈ بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ( آر اینڈ بی) اور پروجیکٹ کی تکمیل سے وابستہ دیگر سینئر انجینئران اور افسران بھی تھے۔بعد میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں ضلع میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت اور طویل عرصے سے زیرِ اِلتوأ عوامی مسائل پر تفصیلی غورو خوض کیا گیا۔ میٹنگ میں سڑکوں کے رابطے، آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے، سیلاب سے بچائو کے اقدامات، سیوریج کی سہولیات، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، اراضی کے حصول اور عوامی خدمات کو بہتر بنانے سے متعلق دیگر اہم منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، کمشنر سیکرٹری محکمہ مکانات و شہری ترقی مندیپ کور، منیجنگ ڈائریکٹر جموں و کشمیر سٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن، ضلع ترقیاتی کمشنروں سری نگر، گاندربل اور بانڈی پورہ، ڈائریکٹر سیاحت کشمیر، چیف اِنجینئر آر اینڈ بی، چیف اِنجینئر آبپاشی و فلڈ کنٹرول، سیکرٹری جموں و کشمیرسپورٹس کونسل، ضلعی اَفسران اور دیگر سینئر افسرا ن نے شرکت کی جبکہ آئوٹ سٹیشن اَفسران نے بذریعہ ویڈیو کانفرنسنگ میٹنگ میں حصہ لیا۔میٹنگ کے شروعات میں ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل نے ضلع کے ترجیحی ترقیاتی مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی اور حکومت کی فوری مداخلت کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے متعدد سڑکوں کی توسیع، پریبل۔تکنواری پل تک رسائی والی سڑک کے لئے اراضی کے حصول، آبپاشی نہروں اور پاور کنال کے بنڈوں کو مضبوط بنانے، کشمیر سینٹرل یونیورسٹی تک سڑک رابطہ بہتر بنانے، سیاحتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مانسبل میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے قیام کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔اُنہوں نے رِنگ روڈ مرحلہ دوم کی توسیع کے باعث متاثر ہونے والے دکانداروں کی بازآبادکاری، اہم رابطہ سڑکوں کی تعمیر، اِنٹگریٹیڈ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پلانٹ کے قیام اور عوامی سہولیات و بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے متعلق دیگر منصوبوں کا بھی ذِکر کیا۔وزیراعلیٰ نے تفصیلی جائزہ لینے کے بعد تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ رُکاوٹوں کو دُور کرنے، زیر اِلتوأ ٔمنظوریوں کو تیز کرنے اور تمام جاری اور مجوزہ ترقیاتی کاموں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے قریبی تال میل سے کام کریں۔اُنہوں نے کہا کہ منصوبوں پر عمل درآمد میں تاخیر کو ہر ممکن کم کیا جائے اور مختلف محکمے قریبی رابطے کے ساتھ کام کریں تاکہ ترقی کے ثمرات بلا تاخیر عوام تک پہنچ سکیں۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ نے ڈاک بنگلہ گاندربل میں متعدد عوامی وفود اور افراد سے بھی ملاقات کی اور ان کے مسائل اور ترقیاتی مطالبات بغور سنے۔
وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر بھر میں متوازن اور جامع ترقی کے لیے پرعزم ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، شہری سہولیات کو بہتر بنانے اور موثر حکمرانی اور مربوط اقدامات کے ذریعے حقیقی عوامی مسائل کو حل کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت جموں و کشمیر میں متوازن اور ہمہ گیر ترقی کے کے پُرعزم ہے جس میں بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، شہری سہولیات کو بہتر کرنا اور عوامی مسائل کو مؤثر، شفاف اور مربوط طرزِ حکمرانی کے ذریعے حل کرنا شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دورے کے دوران ڈاک بنگلہ گاندربل میں متعدد عوامی وفود اور اَفراد سے بھی ملاقات کی اور ان کی شکایات اور ترقی سے متعلق مطالبات کو بغور سُنا۔ان وفود نے ضلع کے مختلف علاقوں کی نمائندگی کی جن میں صفا پورہ، نونر، منی گام، لار، شیرپتھری، شالہ بُگ، وسکورہ، واکورہ، مانسبل، گوٹلی باغ، بیہامہ، رنگل، سلورہ، وائیل، بٹوینہ اور دیگر دیہات شامل ہیں۔وفود نے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، آبپاشی کی سہولیات، نہروں کی صفائی، تعلیمی اور صحت اِداروں کی اَپ گریڈیشن، صحت مراکز میں عملے کی کمی، کھیل میدانوں کی تعمیر و ترقی، سپورٹس اِنفراسٹرکچر، سیاحت سے متعلق سہولیات اور دیگر مقامی ترقیاتی مسائل کو اُجاگر کیا۔وزیراعلیٰ نے تمام وفود بغور سُنا اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ اُٹھائے گئے مسائل کا جائزہ لے کر مقررہ مدت میں مناسب کارروائی کی جائے۔ اُنہوں نے لوگوں کو یقین دِلایا کہ ان کے حقیقی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور جوابدہ، شفاف اور عوام پر مبنی طرز حکمرانی کے لئے اَپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔










