کہا، آپ صرف ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں۔ آپ کے ہاتھوں میں نہ صرف آپ کا کیریئر بلکہ ملک کی ترقی کی سمت بھی ہے۔ آپ سکل اِنڈیا کی طاقت، ڈیجیٹل اِنڈیا کا آئینہ اور آتم نربھر بھارت کے حقیقی علمبردار ہیں
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے آج امر سنگھ کالج سری نگر میں منعقدہ 77ویں ریاستی سطح کے میگا جاب میلے میں نوجوانوں اورمختلف سرکردہ صنعتوں کے نمائندوں سے خطاب کیا۔یہ میگا جاب میلہ دیش بھگت یونیورسٹی، پنجاب اور کلسٹر یونیورسٹی سری نگر نے مشترکہ طور پر نیشنل اِنسٹی چیوٹ آف الیکٹرانکس اینڈ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی (این آئی اِی ایل آئی ٹی)، نیشنز ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (این ڈِی اے) اور مائی بھارت کے اِشتراک سے منعقد کیا۔ اس کا مقصد نوجوانوں کو براہِ راست صنعتوں سے جوڑنا ہے۔
اِ س میگا جا ب میلے میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، صحت، بینکنگ، مالیاتی خدمات، مینوفیکچرنگ، ریٹیل، ہوٹل نڈسٹری، تعلیم، لاجسٹکس اور اِنجینئرنگ سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی زائد اَز 50 معروف کمپنیوں نے شرکت کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ یہ جاب میلہ نوجوانوں کی اُمنگوں کو روزگار کے مواقع سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ اور ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔اُنہوں نے کہا،’’یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں خوابوں کو سمت ملتی ہے، تعلیم صنعت سے جڑتی ہے اور نئے جموں و کشمیر کی بنیاد مزید مضبوط ہوتی ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے ہزاروں رجسٹرڈ طلبأ کی شرکت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ ایسے اَقدامات کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ نوجوانوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔اُنہوں نے نوجوانوں سے کہا،’’آپ صرف ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ ہندوستان کے مستقبل کے معمار ہیں۔ آپ کے ہاتھوں میں آپ کا کیریئر بھی ہے اور ملک کی ترقی کی سمت بھی۔ آپ سکل اِنڈیا کی طاقت، ڈیجیٹل اِنڈیا کا آئینہ اور آتم نربھر بھارت کے حقیقی علمبردار ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے میگا جاب میلے کے چھ اہم مقاصد کا بھی خاکہ پیش کیا۔اُنہوں نے کہا کہ یہ جاب میلہ نوجوانوں کو باوقار روزگار فراہم کر کے خود کفیل بنائے گا۔اِس سے صنعت اور تعلیمی اِداروں کے درمیان شراکت داری کا راستہ بھی ہموار ہوگا تاکہ ڈِگری اور عملی مہارتوں کے درمیان فرق کو ختم کیا جاسکے۔اُنہوں نے کہا کہ جاب میلے اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ہنر مندی کے پروگراموں کو ڈیجیٹل خواندگی اور تکنیکی صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہوںاورموقع پر انٹرویوز اور براہِ راست بھرتیوں کے ذریعے تقرری کے عمل کو آسان بنائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ جاب میلہ کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دے کر روزگار تلاش کرنے والوں کے ساتھ ساتھ روزگار فراہم کرنے والے کاروباری اَفراد کی حوصلہ اَفزائی بھی کرے گااورمستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اَفرادی قوت تیار کرے گا تاکہ بھارت کی ترقی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اُنہوں نے طالب علموں پر زور دیا کہ وہ وہ تین رہنما اصولوں کو اَپنائیں… خوابوں کو کبھی چھوٹا مت بنائیں، سیکھنا کبھی نہ چھوڑیں اور ہمیشہ اِختراع کو اَپنائیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’بڑے خواب دیکھیں اور نئی دریافتوں پر توجہ دیں۔ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو نئے حل تلاش کرتے ہیں، نئی سوچ پیدا کرتے ہیں اور تبدیلی کی قیادت کرتے ہیں۔کامیابی تب ہی معنی خیز ہوتی ہے جب اخلاقیات اور ذِمہ داری کے ساتھ حاصل کیا جائے۔‘‘اُنہوں نے اِس بات پرزور دیا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کو صرف اِمتحانات تک محدود تعلیم کے بجائے طلبأ کو عملی زِندگی کے لئے تیار کرنا چاہیے۔اُنہوں نے کہا،’’تعلیم صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر طالب علم کو اعتماد، مہارت اور عملی فہم کے ساتھ زندگی کا سفر شروع کرنے کے قابل بنانا چاہیے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے صنعتی اِداروں کے نمائندوں پر بھی زور دیا کہ وہ صرف بھرتی کرنے والے نہیں بلکہ رہنما اور شراکت دار کا کردار اَدا کریں۔اُنہوں نے کہا،’’اگر صنعت اور تعلیم مل کر کام کریں تو ایسا ماحول پیدا ہوگا جہاں علم اور تجربہ ایک دوسرے کو مضبوط کریں گے اور اِختراع اور روزگار ساتھ ساتھ فروغ پائیں گے۔‘‘اُنہوں نے اَنٹرپرینیور شپ میں نوجوانوں کی بڑھی ہوئی دِلچسپی کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 2020 ء کے بعد سے جموں و کشمیر میں لاکھوں نوجوان کاروباری بنے ہیں۔ اُنہوں نے یاد دِلایا کہ 2021-22ء میں مرکز کے پردھان منتری ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام (پی ایم اِی جی پی) کی عمل آوری میں جموں و کشمیر ملک بھر میں سرفہرست رہا اوراُنہوں نے اعتماد کا اِظہار کیا کہ یہ خطہ اِختراع، سٹارٹ اپس اور جدید صنعتوں کے میدان میں نئی شناخت قائم کرے گا۔
لیفٹیننٹ گورنرنے مزید کہا کہ بے روزگاری کا مسئلہ صرف سرکاری ملازمتوں سے حل نہیں ہو سکتا کیوں کہ سرکاری اَسامیوں کی تعداد محدود ہے۔ اِس مقصد کے لئے تین ترجیحات صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتوں کی ترقی،ایم ایس ایم ایز اور ایس ایم ایزکے ذریعے نجی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانا،اِنٹرن شپ، رہنمائی اور کیریئر گائیڈنس کے ذریعے کالج سے عملی میدان تک منتقلی کو آسان بنانا ضروری ہیں ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’آئیے ہم یہ عہد کریں کہ 77واں میگا جاب میلہ جموں و کشمیر کی روزگار کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغازکرے گا۔‘‘تقریب میں کمشنرسیکرٹری محکمہ اعلیٰ تعلیم رام نواس شرما، وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی سری نگر پروفیسر محمد مبین، وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی جموں پروفیسر کے ایس چندرشیکھر، وائس چانسلر آئی یو ایس ٹی پروفیسر شکیل احمد رومشو، صدردیش بھگت یونیورسٹی ڈاکٹر سندیپ سنگھ،پرنسپل امر سنگھ کالج پروفیسر تہمینہ یوسف، سینئر سرکاری اَفسران، مختلف صنعتوں کے نمائندے، تعلیمی اِداروں کے سربراہان اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔










