12 برسوں میں صحت عامہ کے شعبے میں نمایاں پیش رفت، معیاری علاج مزید سستا// وزیر اعظم مودی
سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران بھارت نے معیاری صحت خدمات کو عام لوگوں کے لیے زیادہ سستا اور قابل رسائی بنانے کی سمت میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور حکومت ایک صحت مند اور مضبوط بھارت کی تعمیر کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پیغام میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ حکومت کو اس بات پر فخر ہے کہ آج بھارت کو دنیا کے سب سے بڑے صحت عامہ پروگرام “آیوشمان بھارت” کے حوالے سے جانا جاتا ہے، جو معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقات کو اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 سال کے دوران صحت کے شعبے میں کئی بنیادی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں جن کا مقصد معیاری طبی خدمات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانا اور علاج معالجے کے اخراجات میں کمی لانا تھا۔ وزیر اعظم کے مطابق حکومت کی مختلف اسکیموں نے لاکھوں خاندانوں کو طبی اخراجات کے بوجھ سے نجات دلانے میں مدد فراہم کی ہے۔وزیر اعظم نے “پردھان منتری بھارتیہ جن اوشدھی پریوجنا” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکیم کے ذریعے عام لوگوں کو کم قیمت پر معیاری ادویات دستیاب کرائی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دل کے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والے اسٹنٹس اور گھٹنوں کی پیوندکاری (نی امپلانٹس) جیسے مہنگے طبی آلات بھی عوام کے لیے نسبتاً کم قیمت پر دستیاب بنائے گئے ہیں، جس سے لاکھوں مریضوں کو فائدہ پہنچا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحت خدمات کی توسیع کے ساتھ ساتھ طبی تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ملک بھر میں نئے میڈیکل کالجوں کے قیام اور نشستوں میں اضافے کے باعث اب زیادہ طلبہ کو ڈاکٹر بننے کے مواقع میسر آ رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت اب تک حاصل شدہ کامیابیوں کو مزید وسعت دے کر ایک صحت مند بھارت کی تعمیر کے مشن کو آگے بڑھائے گی۔دریں اثنا، مرکزی حکومت کے شہری شمولیت کے پلیٹ فارم “مائی گَو انڈیا” نے بھی صحت کے شعبے میں گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ معیاری صحت خدمات تک رسائی کسی بھی ملک کی سب سے اہم سرمایہ کاریوں میں شمار ہوتی ہے۔پلیٹ فارم کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے صحت کے شعبے کو زیادہ مؤثر، مضبوط اور عوام دوست بنانے کی سمت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ آج ملک کا صحت کا نظام پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم، جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہے۔یو این ایس کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ایک مضبوط صحت نظام کے لیے زیادہ ڈاکٹروں، بہتر تربیت اور طبی تعلیم تک وسیع رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پہلے طبی تعلیمی اداروں کی کمی تھی، نئے میڈیکل کالجوں کے قیام سے طلبہ کو اپنے علاقوں کے قریب ہی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم ہوئے ہیں۔مائی گَو انڈیا کے مطابق اس پیش رفت کے نتیجے میں ملک میں تربیت یافتہ اور ہنر مند طبی ماہرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو مستقبل میں صحت مند بھارت کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔پلیٹ فارم نے تپ دق (ٹی بی) کے خلاف جاری قومی مہم کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں خاندانوں کے لیے اب یہ بیماری ایک خاموش خطرہ نہیں رہی۔ ابتدائی تشخیص، وسیع پیمانے پر اسکریننگ، بہتر علاج معالجے کی سہولیات اور عوامی شراکت داری کے ذریعے بھارت ٹی بی سے پاک مستقبل کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ کئی ایسی بیماریاں جو ماضی میں صحت عامہ کے لیے سنگین چیلنج سمجھی جاتی تھیں، اب بتدریج ماضی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ نگرانی کے جدید نظام، صحت خدمات کی بہتر فراہمی اور مسلسل عوامی صحت مہمات کے نتیجے میں ملک میں بیماریوں کے بوجھ میں کمی واقع ہو رہی ہے۔مائی گَو انڈیا کے مطابق حکومت کی مربوط حکمت عملی اور عوامی تعاون کے باعث بھارت کئی قابلِ انسداد بیماریوں کے مکمل خاتمے کی سمت میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہا ہے، جو مستقبل میں صحت کے شعبے کی ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔










