’نشہ مُکت یووا وِکست بھارت سنکلپ ابھیان‘کا مقصد نوجوانوں میں نئی توانائی پیدا کرنا، انہیں صحت مند طرزِ زِندگی اَپنانے اور ترقیاتی عمل میں فعال کردار اَدا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ہمارے نوجوانوں کو توانائی کے بادل کی مانند اُبھر کر ترقی کے افق پر چھا جانا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے محکمہ امورِ نوجوانان و کھیل کود اور سکاسٹ کشمیر کے اِشتراک سے منعقدہ یو ٹی سطح کی تقریب میں’نشہ مکت یووا فار وِکست بھارت سنکلپ ابھیان‘ کے آغاز میں شرکت کی۔ اِس 100 ہفتوں پر محیط ملک گیر مہم کا اِفتتاح وزیر اعظم نریندر مودی نے بذریعہ ورچیول موڈ کیا جو نوجوانوں کو بااِختیار بنا کر اور منشیات کے ناسور کا خاتمہ کرکے ہندوستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے قومی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی سب سے بڑی طاقت اس کی نوجوان آبادی ہے جس میں تقریباً 65 فیصد آبادی کی عمر 35 برس سے کم ہے جبکہ 15 سے 29 برس کی عمر کے 37 کروڑ نوجوان قوم کی تعمیر میں اَپنا کردار اَدا کرنے کے لئے پُر جوش ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’نشہ مکت یووا فار وِکست بھارت سنکلپ ابھیان کا مقصد نوجوانوں میں نئی توانائی پیدا کرنا، انہیں صحت مند طرزِ زِندگی اِختیار کرنے اور ترقیاتی عمل میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ ہمارے نوجوان توانائی کے بادل بن کر ترقی کے افق پر چھا جائیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے 2020 میں شروع کی گئی’ نشہ مکت بھارت ابھیان‘ محض ایک سرکاری پروگرام نہیں بلکہ منشیات کے خلاف ایک سماجی تحریک ہے جس کا مقصد شہریوں میں خود نظم و ضبط، مثبت سوچ اور مضبوط عزم پیدا کرنا ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ ملک بھر کے تقریباً,000 10 مقامات پرزائد اَز ایک کروڑ نوجوان اس مہم میں شامل ہو رہے ہیں جواس بات کا مظہر ہے کہ نوجوانوں کو منشیات سے بچانا پوری سوسائٹی کی مشترکہ ذِمہ داری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کے تقریباً 10 ہزار مقامات پر ایک کروڑ سے زائد نوجوان اس مہم میں شریک ہو رہے ہیں، جو اس بات کا مظہر ہے کہ نوجوانوں کو منشیات سے بچانا پوری سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک بھر کے تقریباً 10 ہزار مقامات پر ایک کروڑ سے زائد نوجوان اس مہم میں شریک ہو رہے ہیں، جو اس بات کا مظہر ہے کہ نوجوانوں کو منشیات سے بچانا پوری سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ زائد اَز 35,000 ایم وائی بھارت یوتھ کلب، نہرو یووا کیندر، سکول، کالج اور صنعتی تنظمیں100 ہفتے کی مہم میں حصہ لے رہی ہیں جس کے تحت ہر اتوار نوجوانوں کو ملک گیر سطح پر ایک پلیٹ فارم پر جوڑا جائے گا۔ اُنہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ مہم معاشرے سے منشیات کے خاتمے میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔اُنہوں نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کومُبارک باد دیتے ہوئے 11؍ اپریل سے 20؍ جولائی تک جاری رہنے والی 100 روزہ ’’نشہ مُکت جموں و کشمیر ابھیان‘‘میں ان کی فعال شرکت کوسراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ مہم پورے ملک کے لئے کامیابیکانمونہ بن گئی ہے۔ منوج سِنہانے کہا،’’اِنتظامیہ، پولیس، سماجی تنظیموں، تعلیمی اِداروں، مذہبی رہنماؤں اور عام شہریوں کی مشترکہ کوششوں نے ثابت کر دیا کہ جب معاشرہ ایک مشترکہ مقصد کے لئے متحد ہو جائے تو بڑے سے بڑے چیلنج پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔‘‘اُنہوں نے مہم کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اَب تک تقریباً 2,300 ایف آئی آر درج، 2,600 اَفراد گرفتار اور 1,500 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ منشیات فروشوں اور نارکو دہشت گردوں کی تقریباً 200 کروڑ روپے مالیت کی 331 سے زائد جائیدادیں قرق کی گئی ہیں جبکہ زائد اَز 370 سے ڈرائیونگ لائسنس اور 750 گاڑیوں کی رَجسٹریشن منسوخ کی جا چکی ہے۔ اِس کے علاوہ تقریباً 3000 آدھار کارڈ منسوخ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اَقدامات نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرنے والے منشیات کے نیٹ ورک کے خلاف حکومت کے عزم کا ثبوت ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’قانونی کارروائی جتنی ضروری ہے، عوامی بیداری اور متاثرین کی بحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ حکومت جلد ہی ’منشیات سے متاثرہ اَفراد کی بحالی اور سماجی و معاشی انضمام سکیم 2026 ‘شروع کرے گی۔ اس کا پائلٹ پروجیکٹ کشمیر اور جموںصوبوں کے دو سب سے زیادہ متاثرہ اَضلاع میں شروع کیا جائے گا۔ تین برس کے لئے میڈیکل سکیم کے تحت طبی علاج، مشاورت، تعلیم، ہنرمندی، روزگار، سماجی بحالی اور طویل مدتی نگرانی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ میں منشیات سے متاثرہ نوجوانوں کو مجرم نہیں بلکہ متاثرہ اَفراد سمجھتا ہوں اور ہمیں ان کی عزت، روزگار اور باوقار مستقبل کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘اُنہوں نے والدین، اَساتذہ اور نوجوانوں کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی رہنمائی میں فعال کردار اَدا کریں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا ،’’والدین اور اَساتذہ نوجوانوں کے سب سے بڑے رہنما ہیں۔ انہیں مکالمے، اعتماد اور حوصلہ افزائی کے ذریعے نوجوانوں کا ساتھ دینا چاہیے۔ ایم وائی بھارت ،نہرو یووا کیندر اور یوتھ کلبوں کے رضاکاروں کو مہم کے پیغام کو ہر گاؤں، سکول، کالج اور کمیونٹی تک پہنچانا چاہیے۔‘‘اُنہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ منشیات سے دور رہیں، اَپنے ساتھیوں کو بھی اس سے بچنے کی ترغیب دیں اور صحت مند، باکردار اور ذِمہ دار شہری بنیں۔ اُنہوں نے یقین ظاہر کیا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان منشیات کی تاریکی کو ختم کرکے علم، ترقی اور مثبت توانائی کی روشنی پھیلائیں گے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ایک صحت مند نوجوان، مضبوط خاندان اور باشعور عوام ہی وِکست بھارت کی شناخت بنیں گے۔‘‘ اِس موقعہ پرلیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے نوجوانوں سے ’’شہ مکت یووا عہد‘‘ بھی دِلوایا۔تقریب میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر پروفیسر نذیر احمد گنائی، کمشنرسیکری ٹرہ محکمہ امورِنوجوان و کھیل کود ڈاکٹر شاہد اِقبال چودھری، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گَرگ، ڈائریکٹرمیرا یووا بھارت ( ایم وائی بھارت) جموں و کشمیر نتن ہانگلو، سینئر اَفسران، یوتھ کلبوں اور نہرو یووا کیندروں کے اراکین، ممتاز شہریوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔










