لیفٹیننٹ گورنر نے ڈاکٹر اے ایچ شاہ کی کتاب’ شاردا سے سنسد‘‘ کی رسم رونمائی تقریب میں شرکت کی

لیفٹیننٹ گورنر نے ڈاکٹر اے ایچ شاہ کی کتاب’ شاردا سے سنسد‘‘ کی رسم رونمائی تقریب میں شرکت کی

اگر شاردا نے معاشرے کی دانش و حکمت کی آبیاری کی اور پارلیمنٹ نے قوم کی اُمنگوں کو پورا کرنے کا کام کیا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر

سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ڈاکٹر اے ایچ شاہ کی تصنیف کردہ کتاب ’’شاردہ سے سنسد‘‘ کی رسم رونمائی تقریب میں شرکت کی۔ اِس موقعہ پر اُنہوں نے ڈاکٹر اے ایچ شاہ کو ان کی اس علمی و تحقیقی کاوش پر دلی مُبارک باد پیش کی ۔اُنہوں نے کہا کہ یہ کتاب محض تاریخ کا بیان نہیں بلکہ ورثے اور اُمیدکے مابین، ماضی کی حکمت اور حال کی جمہوری اُمنگوں کے مابین ایک بامعنی مکالمہ قرار دیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے اَپنے خطاب میں پہاڑی کمیونٹی کے تاریخی پس منظر، ان کی شاندار ثقافت اور صدیوں سے روایات کو محفوظ رکھنے میں ان کی اِستقامت کو اُجاگر کیا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ یہ کتاب شاردا پیٹھ کی قدیم تہذیب کے تسلسل اور جدید بھارت کے جمہوری اِداروں کی توانائی کے بارے میں ایک نیا نقطہ نظر پیش کرتی ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے متعلق کتابیں اکثر نسلوں کے درمیان پُل کا کام کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر اے ایچ شاہ نے ’شاردا سے سنسد‘کے ذریعے ایسا ہی ایک پُل تعمیر کیا ہے جو ہمیں یاد دِلاتا ہے کہ تاریخ اور ثقافت کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ ہمارے وجود میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا کہ اَدب اور علمی تحقیق انسانی روح کو منور کرتے ہیں اور مختلف اَدوار کو جوڑتے ہیں۔ اُنہوں نے قدیم علمی مرکز شاردا پیٹھ اور جدید ہندوستان کی اِجتماعی شعور کی علامت پارلیمنٹ کے درمیان ایک بامعنی تقابل پیش کرتے ہوئے کہا،’’اگر شاردا نے معاشرے کی دانش و حکمت کی آبیاری کی اور پارلیمنٹ نے قوم کی اُمنگوں کو پورا کرنے کے لئے کام کیا ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ایک تاریخی تبدیلی آئی جس کے نتیجے میں خطے کی عوامی اُمنگیں قومی ترقی کے دھارے سے جُڑ گئیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پہاڑی کمیونٹی سمیت دیگر محروم طبقات کو بااِختیار بنانا ہندوستان کے جمہوری سفر کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’آنے والی نسلیں اس تاریخی تبدیلی کو ہمیشہ یاد رکھیں گی۔‘‘اُنہوں نے ہندوستان کی تہذیبی وراثت کا ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی اَصل طاقت ہمیشہ اس کے علمی اعتماد، سوال کرنے کی جرأت اور مکالمے کی روایت میں مضمر رہی ہے۔ اُنہوں نے نالندہ، تکششیلا اور وکرم شیلا جیسے عظیم علمی مراکز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عمارتیں منہدم ہو سکتی ہیں لیکن ہندوستانی تہذیب میں علم کی جستجو ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے پہاڑی کمیونٹی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیونٹی نے اَپنی زبان، لوک اَدب، لوک موسیقی اور روایات کو نہایت وقار اور صبر کے ساتھ محفوظ رکھا ہے۔ اِن کے مطابق پہاڑی عوام کا زبانی ادب اور ثقافتی روایات جرأت، ہم آہنگی اور اِنسانی اقدار کا روشن اظہار ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’شارداسے سنسد تک کا سفر صرف ایک کمیونٹی کا سفر نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا سفر ہے۔ یہ ایک ایسی تہذیب کا سفر ہے جس نے اَپنی قدیم علمی روایت کو جمہوری اِداروں تک پہنچایا اور دونوں پر یکساں اعتماد برقرار رکھا۔ میرا ماننا ہے کہ ثقافت ایک زندہ طاقت ہے۔ ہر نسل ثقافتی ورثے امانت کے طور پر حاصل کرتی ہے، اِس میں اَپنی شناخت کا رنگ شامل کرتی ہے اور اسے اگلی نسل تک منتقل کرتی ہے اور یہی ایک مضبوط اور متحرک جمہوریت کی بنیاد ہے۔‘‘اُنہوں نے اہلِ علم، اَساتذہ، فن کاروں اور عام شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی تہذیبی وراثت کے تحفظ میں اپنا کردار اَدا کریں۔لیفٹیننٹ گورنر نے اہلِ علم، اَساتذہ، فن کاروں اور عام شہریوں پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کے تہذیبی ورثے کے تحفظ میں سرمایہ کاری کریں۔اُنہوں نے کہا،’’اَب بھی ایسے بے شمار دیہات ہیں جن کی داستانیں قلم بند نہیں ہوئیں، ایسی بولیاں ہیں جن کی قواعد پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے اور ایسے لوک گیت ہیں جو ابھی تک ریکارڈ نہیں کئے گئے۔ن میں سے ہر ایک کوشش ہمارے قومی ذخیرہ ٔکو تقویت بخشے گی۔‘‘انہوں نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ اپنی روایات سے وابستہ رہتے ہوئے جدت اور اختراع کو فروغ دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے چیئرمین جموں و کشمیر پہاڑی ویلفیئر سوسائٹی کی طرف سے اُٹھائے گئے مسائل پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی عمل آوری کے باوجود بعض عناصر جان بوجھ کر مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے یقین دلایا کہ عوام کو اس پریشانی سے نجات دِلانے کے لئے ایک مضبوط طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔کتاب کی رسم رونمائی تقریب میں چیئرمین جے اینڈ کے پہاڑی ویلفیئر سوسائٹی ظفر اقبال منہاس، مصنف ڈاکٹر اے ایچ شاہ، خوش دیو مینی، ڈاکٹر جہانگیر دانش اور دیگر ممتاز ادبی شخصیات اور مختلف پہاڑی تنظیموں کے اراکین نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر رُکن قانون ساز اسمبلی حلقہ اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع، سابق چیئرپرسن ڈِی ڈِی سی بارہمولہ سفینہ بیگ، ڈی آئی جی سی کے آر راجیو پانڈے، ڈی آئی جی سی کے آر،ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی، سیکرٹری کلچرل اکیڈیمی ہرویندر کوراور دیگر سینئراَفسران بھی موجود تھے۔