معلومات کے حصول کیلئے شہریوں کو طویل قانونی لڑائیوں پر مجبور کیا جا رہا ہے//مرکزی اطلاعاتی کمیشن
سرینگر/یو این ایس// مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے جموں و کشمیر کے متعدد سرکاری محکموں میں حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) پر عمل درآمد کی صورتحال پر سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت کے نظام میں موجود خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کمیشن نے مختلف محکموں کے کئی افسران کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے وضاحت طلب کی ہے کہ آر ٹی آئی قانون کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف جرمانہ کیوں نہ عائد کیا جائے۔یو این ایس کے مطابق کمیشن کے حالیہ احکامات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متعدد سرکاری دفاتر میں آر ٹی آئی درخواستوں کا بروقت جواب نہیں دیا گیا، اپیلوں کو نظر انداز کیا گیا، سماعتوں میں شرکت سے گریز کیا گیا اور شہریوں کو معمول کی معلومات حاصل کرنے کے لیے طویل قانونی جدوجہد پر مجبور ہونا پڑا۔مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے محکمہ مال راجوری، ضلع فنڈ آفس راجوری، جموں میونسپل کارپوریشن (جے ایم سی)، بلاک ڈیولپمنٹ آفس بی کے پورہ بڈگام اور بلاک ڈیولپمنٹ آفس کہارا ڈوڈہ کے متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔کمیشن نے اپنے احکامات میں کہا ہے کہ ان تمام معاملات میں ایک مشترکہ اور تشویشناک رجحان سامنے آیا ہے، جس کے تحت سرکاری اداروں نے یا تو معلومات فراہم نہیں کیں، غیر معمولی تاخیر سے معلومات دیں، اپیلیٹ اتھارٹیز کے احکامات پر عمل نہیں کیا یا پھر کمیشن کے سامنے حاضر ہونے سے بھی گریز کیا۔سب سے سنگین معاملہ ضلع راجوری کے ایک شہری کی درخواست سے متعلق سامنے آیا، جس نے گاؤں مراد پور میں ایک سڑک، اس سے متعلق مالکانہ ریکارڈ، نقشے اور مبینہ تجاوزات کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں۔ درخواست گزار نے مئی 2024 میں محکمہ مال سے آر ٹی آئی کے تحت معلومات مانگی تھیں اور مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کی زمین پر مبینہ غیر قانونی تجاوزات ہو رہی ہیں، جبکہ متعدد شکایات کے باوجود انتظامیہ نے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی۔کمیشن کے مطابق نہ صرف درخواست گزار کو مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں بلکہ اس کی پہلی اپیل کا بھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ محکمہ مال کا کوئی نمائندہ سماعت کے دوران کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی تحریری وضاحت جمع کرائی گئی۔کمیشن نے اس رویے کو آر ٹی آئی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ کی خاموشی اور عدم تعاون شفافیت کے تقاضوں کے تئیں غیر سنجیدہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیشن نے محکمہ کو دو ہفتوں کے اندر معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی اور متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر کے خلاف شوکاز کارروائی شروع کر دی۔ایک اور اہم معاملہ ضلع فنڈ آفس راجوری سے متعلق سامنے آیا جہاں ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم کو اپنی جنرل پروویڈنٹ فنڈ کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے مرکزی اطلاعاتی کمیشن سے رجوع کرنا پڑا۔ درخواست گزار نے 1980-81 سے اپنے جی پی ایف اکاؤنٹ کا لیجر ریکارڈ طلب کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اس کے ریٹائرمنٹ فوائد کے حساب میں غلطی ہوئی ہے۔یو این ایس کے مطابق کمیشن نے پایا کہ آر ٹی آئی درخواست اور اپیل کے باوجود متعلقہ دفتر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اگرچہ بعد میں کچھ معلومات فراہم کی گئیں اور بقایا رقم کا ایک حصہ بھی جاری کیا گیا، تاہم یہ سب کچھ پانچ ماہ سے زائد تاخیر کے بعد ہوا۔ کمیشن نے متعلقہ افسر کی غیر حاضری اور تاخیر کی معقول وجہ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جرمانے کی کارروائی شروع کر دی۔جموں میونسپل کارپوریشن بھی کمیشن کی سخت تنقید کی زد میں آئی۔ معاملہ جموں کے چنی کمالہ علاقے میں ایک مبینہ غیر مجاز تجارتی کمپلیکس سے متعلق تھا۔ درخواست گزار نے انہدامی نوٹس، خلاف ورزی کی رپورٹوں، بلڈنگ مالک کے جوابات اور میونسپل حکام کی کارروائی کی تفصیلات طلب کی تھیں۔کمیشن کے مطابق فرسٹ اپیلیٹ اتھارٹی نے اگست 2024 میں مکمل معلومات فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی، تاہم کئی اہم معلومات فروری 2026 تک بھی فراہم نہیں کی گئیں۔ کمیشن نے ریکارڈ کیا کہ بعض معلومات جان بوجھ کر روکی گئیں اور متعلقہ سی پی آئی او سماعت میں بھی حاضر نہیں ہوا۔یو این ایس کے مطابق کمیشن نے جموں میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر (ساؤتھ) کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے باقی معلومات دو ہفتوں کے اندر متعلقہ اتھارٹی کو منتقل کرنے اور درخواست گزار کو فراہم کرنے کا حکم دیا۔اسی طرح بڈگام کے بی کے پورہ بلاک ڈیولپمنٹ آفس کے خلاف بھی سخت ریمارکس دیے گئے۔ درخواست گزار نے پنچایتی راج اداروں کے فنڈز، منریگا اسکیم، سوچھ بھارت مشن کے تحت تعمیر شدہ بیت الخلاؤں، ہینڈ پمپوں اور مختلف ترقیاتی منصوبوں سے متعلق تفصیلات طلب کی تھیں۔سماعت کے دوران حکام نے دعویٰ کیا کہ نومبر 2024 میں معلومات فراہم کر دی گئی تھیں، لیکن کمیشن کے سامنے وہ اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے کہ معلومات واقعی درخواست گزار تک پہنچی تھیں۔ کمیشن نے اس رویے کو غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے تازہ اور نقطہ وار جواب فراہم کرنے کا حکم دیا اور اْس وقت کے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کے خلاف جرمانے کی کارروائی شروع کر دی۔ڈوڈہ ضلع کے کہارا بلاک ڈیولپمنٹ آفس کے خلاف بھی کمیشن نے کارروائی شروع کی ہے۔ اس معاملے میں گزشتہ دس برسوں کے دوران ترقیاتی کاموں اور عوامی فنڈز کے استعمال سے متعلق معلومات طلب کی گئی تھیں۔ تاہم نہ آر ٹی آئی درخواست کا جواب دیا گیا اور نہ ہی پہلی اپیل پر کوئی فیصلہ کیا گیا، جس کے باعث درخواست گزار کو مرکزی اطلاعاتی کمیشن سے رجوع کرنا پڑا۔مرکزی اطلاعاتی کمیشن نے اپنے احکامات میں واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں، مستفیدین کی فہرستوں اور عوامی فنڈز کے استعمال سے متعلق معلومات عوام کا قانونی حق ہیں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو طویل قانونی لڑائیاں لڑنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔کمیشن نے یہ بھی کہا کہ فرسٹ اپیلیٹ اتھارٹیز کا کردار آر ٹی آئی تنازعات کو ابتدائی سطح پر حل کرنا ہوتا ہے، لیکن متعدد معاملات میں ان اداروں کی ناکامی نے شہریوں کو دہلی میں واقع مرکزی اطلاعاتی کمیشن تک پہنچنے پر مجبور کر دیا۔سی آئی سی کے ان احکامات نے جموں و کشمیر میں شفافیت کے نظام، آر ٹی آئی قانون کے نفاذ اور مختلف سرکاری اداروں کی جوابدہی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔










