1891 کی مردم شماری نے ریاستِ کشمیر کی پہلی مکمل تصویر پیش کی

وادی 93 فیصد مسلمانوں کا اکثریتی خطہ، سرینگر شہر میں مسلمانوں کی تعداد 92 ہزار

سرینگر//// یو این ایس/ جموں و کشمیر میں 2027 کی مجوزہ مردم شماری کی تیاریاں جاری ہیں، ایسے میں 1891 میں انجام دی گئی ریاستِ کشمیر کی پہلی مستند مردم شماری ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ تقریباً 135 سال قبل مرتب ہونے والی اس تاریخی دستاویز نے نہ صرف ریاست کی آبادی کا حساب پیش کیا بلکہ اس وقت کے سماجی، معاشی، مذہبی اور سیاسی ڈھانچے کی ایک ایسی تصویر بھی محفوظ کی جو آج تاریخ کا اہم حوالہ سمجھی جاتی ہے۔یو این ایس کے مطابق 1891 کی مردم شماری رائے بہادر پنڈت بھگ رام کی نگرانی میں مکمل کی گئی تھی، جو اس وقت ریاستی کونسل کے سیکریٹری اور عدالتی رکن تھے۔ 462 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ 1893 میں شائع ہوئی اور اسے ریاستِ کشمیر کی پہلی قابلِ اعتماد مردم شماری قرار دیا جاتا ہے۔مردم شماری کے مطابق اس وقت ریاستِ کشمیر کی کل آبادی 25 لاکھ 43 ہزار 952 نفوس پر مشتمل تھی جو تقریباً 80 ہزار 900 مربع میل رقبے پر آباد تھی۔ یہ خطہ پنجاب کے میدانی علاقوں سے لے کر قراقرم کے برف پوش پہاڑوں اور لداخ کے بلند و بالا سطح مرتفع تک پھیلا ہوا تھا۔اعداد و شمار کے مطابق ریاست کی 70.5 فیصد آبادی مسلمان تھی جن کی تعداد 17 لاکھ 93 ہزار 710 تھی، جبکہ ہندو آبادی 6 لاکھ 91 ہزار 800 نفوس پر مشتمل تھی جو کل آبادی کا 27.7 فیصد بنتی تھی۔ بدھ مت کے پیروکاروں کی تعداد تقریباً 30 ہزار تھی جو زیادہ تر لداخ میں آباد تھے۔رپورٹ کے مطابق وادی کشمیر واضح طور پر مسلم اکثریتی خطہ تھی جہاں 9 لاکھ 49 ہزار آبادی میں سے 8 لاکھ 83 ہزار سے زائد مسلمان تھے، یعنی وادی کی 93 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمان تھی۔ سرینگر شہر میں بھی مسلمانوں کی تعداد 92 ہزار 575 ریکارڈ کی گئی جو شہر کی کل آبادی کا تقریباً 78 فیصد تھی۔اس کے برعکس جموں شہر میں ہندو اکثریت موجود تھی، تاہم پوری جموں ڈویڑن کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی مسلمان آبادی 55 فیصد سے زیادہ تھی۔ مردم شماری کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس وقت کی ریاست مجموعی طور پر ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی۔رپورٹ میں ریاست کی انتظامی تقسیم کی بھی تفصیلات موجود ہیں۔ اس وقت ریاست کو دو بڑے صوبوں، جموں اور کشمیر، جبکہ تین سرحدی اضلاع لداخ، اسکردو اور گلگت میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پورے خطے میں صرف آٹھ شہر اور 8411 دیہات تھے۔ سرینگر سب سے بڑا شہری مرکز تھا جہاں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ آباد تھے، جبکہ باقی تمام شہر نسبتاً چھوٹے تھے۔مردم شماری میں سماجی ڈھانچے کی پیچیدگیوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریاستی ملازمتوں، انتظامیہ اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر کشمیری پنڈتوں اور دیگر ہندو طبقات کا نمایاں اثر و رسوخ تھا، جبکہ مسلم اکثریت زیادہ تر زراعت، دستکاری، شال بافی، کشتی رانی، مویشی پروری اور دیگر محنت طلب پیشوں سے وابستہ تھی۔یو این ایس کے مطابق دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ کشمیر میں 9491 شال باف، 4423 کمبل باف، 2592 کشتی بان اور ہزاروں کسان اور مزدور موجود تھے۔ اس کے مقابلے میں ریاستی انتظامیہ اور دفتری امور میں مسلمانوں کی نمائندگی نہایت محدود تھی۔ مردم شماری کے مطابق ریاستی نظام میں طاقت اور وسائل کی تقسیم آبادی کے تناسب سے مختلف تھی۔تاریخی رپورٹ میں مذہبی اور سماجی گروہوں کی اندرونی تقسیم، مختلف برادریوں کی آبادی، رہائشی حالات، شرح خواندگی، پیشہ ورانہ تقسیم اور دیہی و شہری زندگی کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انیسویں صدی کے اواخر میں ریاستِ کشمیر ایک پیچیدہ سماجی ساخت کی حامل تھی جہاں آبادی کی اکثریت دیہی علاقوں میں مقیم تھی اور شہری زندگی محدود پیمانے پر موجود تھی۔مؤرخین کے مطابق 1891 کی مردم شماری صرف آبادی کے اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ ڈوگرہ دور کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی تاریخی دستاویز ہے۔ آج جب جموں و کشمیر ایک نئی مردم شماری کی طرف بڑھ رہا ہے تو یہ تاریخی ریکارڈ ماضی اور حال کے درمیان ایک اہم پل کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور خطے کی تاریخ، سیاست اور سماج کے مطالعے میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔