ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی کو ذمہ دار ٹھہرایا،جنگلات کی کٹائی اور بڑھتا درجہ حرارت خطرے کی گھنٹی
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کم از کم چھ کلاؤڈ برسٹ (بادل پھٹنے) کے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں پانچ واقعات جموں خطے جبکہ ایک جنوبی کشمیر میں پیش آیا۔ ان واقعات کے نتیجے میں اچانک سیلاب، مکانات اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچا جبکہ کئی پہاڑی اضلاع میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔یو این ایس کے مطابق تازہ ترین واقعہ ضلع ریاسی کے مہور سب ڈویڑن کے بٹھوئی گاؤں میں جمعرات کی رات پیش آیا، جہاں اچانک بادل پھٹنے کے بعد پانی، مٹی اور ملبے کا بڑا ریلا آبادی میں داخل ہوگیا۔ سرکاری حکام کے مطابق متعدد رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔اس سے قبل ہفتے کے دوران ڈوڈہ، کشتواڑ اور پونچھ اضلاع میں بھی چار الگ الگ کلاؤڈ برسٹ کے واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ ضلع کشتواڑ کے سرٹھل علاقے کے گہن اور مچھی پال میں دو واقعات پیش آئے جبکہ ضلع ڈوڈہ کے ٹھاٹھری علاقے میں بھی بادل پھٹنے سے شدید تباہی مچی۔ٹھاٹھری میں سیلابی پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہوگیا، متعدد گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں جبکہ انتظامیہ کو کئی متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ مٹی کے تودے گرنے سے قصبے سے گزرنے والی شاہراہ کے کئی حصے بھی بند ہوگئے جس سے آمدورفت متاثر ہوئی۔اسی دوران ضلع پونچھ کے منڈی علاقے کے سبزیان-گھوریاں خطے میں شدید بارشوں کے باعث اچانک سیلاب آیا، جس کے نتیجے میں ایک اسکول کے نزدیک ملبے کے بڑے ڈھیر جمع ہوگئے۔ اگرچہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم مقامی لوگوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جمعہ کے روز جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے شانگس علاقے کے رانی پورہ، راکھی براہ اور ناگ ناران دیہات میں بھی کلاؤڈ برسٹ کا واقعہ پیش آیا۔ تیز رفتار سیلابی ریلے نے دھان کے کھیتوں، باغات اور زرعی اراضی کو نقصان پہنچایا جبکہ متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا۔رانی پورہ کے رہائشی مشتاق احمد نے بتایا کہ یہ واقعہ چند ہی لمحوں میں پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اچانک زور دار گرج سنائی دی اور پھر مٹی ملا پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ لوگوں کو بمشکل اپنے گھروں سے نکلنے کا موقع ملا۔مقامی باشندوں کے مطابق سیلابی پانی نے وسیع پیمانے پر زرعی زمینوں اور پھلدار باغات کو نقصان پہنچایا ہے۔ شانگس سے رکن اسمبلی ریاض احمد خان نے کہا کہ متعلقہ محکموں کی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے رہی ہیں اور حکومتی ضوابط کے مطابق متاثرین کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ زراعت اور باغبانی کے شعبوں کو خاصا نقصان پہنچا ہے اور جلد ہی مکمل تخمینہ تیار کرکے امدادی اقدامات عمل میں لائے جائیں گے۔ماہرین ماحولیات اور موسمیات کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ماحولیاتی انحطاط کا نتیجہ ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہائیڈرولوجی جموں کے ماہر ارضیات ریاض احمد میر کے مطابق درجہ حرارت میں اضافہ فضا میں نمی کی مقدار بڑھا دیتا ہے، جس کے نتیجے میں مختصر وقت میں شدید بارشیں ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہاڑی علاقوں میں پانی انتہائی تیزی سے نشیبی علاقوں کی جانب بہتا ہے، جس سے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جنگلات کی کٹائی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے کیونکہ درختوں کی کمی کے باعث زمین کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے۔یو این ایس کے مطابق عالمی ادارے “گلوبل فاریسٹ واچ” کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر نے 2001 سے 2023 کے درمیان تقریباً 212 مربع کلومیٹر جنگلاتی رقبہ کھو دیا ہے، جس کا اثر خطے کے ماحولیاتی توازن پر واضح طور پر نظر آرہا ہے۔محکمہ موسمیات سری نگر کے ڈائریکٹر مختار احمد نے کہا کہ درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے ساتھ فضا تقریباً سات فیصد زیادہ نمی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے باعث شدید بارشوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریڈار اور سیٹلائٹ پر مبنی جدید موسمی نگرانی نظام کے ذریعے پیشگی انتباہی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے متعلقہ اداروں کو بروقت الرٹ جاری کرنے میں مدد مل رہی ہے۔مختار احمد کے مطابق قبل از مانسون اور مانسون کے دوران کلاؤڈ برسٹ اور اچانک سیلاب کے واقعات میں عموماً اضافہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر جموں کے پہاڑی اضلاع میں مختصر دورانیے کی شدید بارشوں کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ماہر موسمیات سونم لوٹس نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ کے بیشتر واقعات مغربی ہواؤں اور نمی سے بھرپور موسمی نظاموں کے باہمی تعامل کے نتیجے میں رونما ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے موسمی حالات محدود رقبے میں بہت کم وقت کے دوران انتہائی شدید بارش کا سبب بنتے ہیں۔آزاد موسمیاتی مبصر فیضان عارف نے کہا کہ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلیوں اور زمین کے استعمال میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے نہایت حساس ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پہاڑی علاقوں کی منصوبہ بندی اور ترقیاتی سرگرمیوں میں ان عوامل کو ضرور مدنظر رکھا جانا چاہیے۔گزشتہ برس بھی جموں کے کئی اضلاع میں اپریل سے ستمبر کے دوران کلاؤڈ برسٹ اور اچانک سیلاب کے متعدد واقعات پیش آئے تھے جن سے مکانات، سڑکوں اور زرعی اراضی کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔یو این ایس کے مطابق ان واقعات میں سب سے المناک سانحہ 14 اگست 2025 کو ضلع کشتواڑ کے چسوٹی گاؤں میں مچیل ماتا یاترا روٹ پر پیش آیا تھا، جہاں کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں تقریباً 70 افراد ہلاک جبکہ درجنوں افراد لاپتہ ہوگئے تھے، جن میں زیادہ تر یاتری شامل تھے۔وزارت داخلہ کی جانب سے رواں سال راجیہ سبھا میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران جموں و کشمیر میں سیلاب اور شدید بارشوں کے مختلف واقعات میں 199 افراد جان بحق ہوئے، 11,693 مویشی ہلاک ہوئے، 8,404 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 77,915 ہیکٹر زرعی اراضی متاثر ہوئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے، جنگلات کے تحفظ اور پائیدار ترقیاتی منصوبہ بندی پر فوری توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں ایسے قدرتی آفات کے واقعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔










