سری نگر ہوائی اڈے کی توسیع منظور،مسافر گنجائش 25 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ سالانہ ہوگی

سری نگر ہوائی اڈے کی توسیع منظور،مسافر گنجائش 25 لاکھ سے بڑھ کر ایک کروڑ سالانہ ہوگی

1667 کروڑ روپے کے توسیعی منصوبے سے عالمی معیار کے ایوی ایشن ہب میں تبدیل ہوگا

سرینگر// یو این ایس// سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈہ آئندہ چند برسوں میں ایک بڑے تبدیلی کے مرحلے سے گزرنے والا ہے۔ حکومت ہند نے ہوائی اڈے کی توسیع اور جدید کاری کے لیے 1667 کروڑ روپے کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کے تحت مسافروں کو عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈے کی استعداد کار میں بھی کئی گنا اضافہ کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق سری نگر ایئرپورٹ کے ڈائریکر جاوید انجم نے اتوار کو “یاتری سہولت دیوس” کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ جموں و کشمیر کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا اور اس سے سری نگر ہوائی اڈہ شمالی ہندوستان کے اہم ترین فضائی مراکز میں مزید مضبوط حیثیت حاصل کرے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سری نگر ہوائی اڈے پر مسافروں کی تعداد، فضائی رابطوں اور کارگو آپریشنز میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ آج یہ ہوائی اڈہ کشمیر آنے والے سیاحوں، تاجروں اور مقامی باشندوں کے لیے سب سے اہم فضائی دروازے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔جاوید انجم کے مطابق سری نگر ہوائی اڈہ نہ صرف وادی کشمیر کو ملک کے مختلف بڑے شہروں سے جوڑتا ہے بلکہ سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، دستکاری، باغبانی اور مقامی تجارت جیسے اہم شعبوں کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2014-15 میں سری نگر ہوائی اڈے سے سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد 20 لاکھ 40 ہزار تھی، جو بڑھ کر 2024-25 میں 44 لاکھ 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی مانگ اور بہتر رابطہ نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔البتہ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد 2025-26 کے دوران مسافروں کی تعداد کم ہو کر 33 لاکھ 80 ہزار رہ گئی، تاہم اس کے باوجود سری نگر ہوائی اڈہ شمالی ہندوستان کے مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شامل ہے اور جموں و کشمیر کی سیاحت پر مبنی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ایئرپورٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ بہتر فضائی رابطوں اور پروازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے نہ صرف خطے کو ملک کے دیگر حصوں سے مزید قریب کیا ہے بلکہ سیاحوں، کاروباری افراد اور مقامی آبادی کے لیے سفر کو بھی آسان بنایا ہے۔انہوں نے بتایا کہ منظور شدہ 1667 کروڑ روپے کے توسیعی منصوبے کے تحت سری نگر ہوائی اڈے کی سالانہ مسافر گنجائش موجودہ 25 لاکھ مسافروں سے بڑھا کر ایک کروڑ مسافروں تک کی جائے گی۔ اس سے مستقبل میں بڑھنے والے فضائی ٹریفک کے دباؤ سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔منصوبے کے تحت ہوائی اڈے کے ٹرمینل کی مجموعی رقبہ بھی موجودہ 20 ہزار مربع میٹر سے بڑھا کر 71 ہزار مربع میٹر کیا جائے گا۔ نیا ٹرمینل جدید ترین ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے گا تاکہ مسافروں کو زیادہ آرام دہ، محفوظ اور سہل سفری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔جاوید انجم نے کہا کہ توسیعی منصوبے میں ایک ہزار گاڑیوں کی گنجائش رکھنے والی ملٹی لیول کار پارکنگ بھی شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ ایسی بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی جن کے ذریعے بیک وقت 15 طیاروں کی آمد و رفت اور پارکنگ ممکن ہو سکے گی، جس سے آپریشنل صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیا ٹرمینل عالمی معیار کے ہوائی اڈوں کی طرز پر تیار کیا جائے گا اور اس سے نہ صرف مسافروں کی سہولت میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل کی ضروریات کو پورا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔یو این ایس کے مطابق ایئرپورٹ ڈائریکٹر کے مطابق اس منصوبے کو چار برس کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اسے سری نگر ہوائی اڈے کی تاریخ کا سب سے بڑا بنیادی ڈھانچہ جاتی منصوبہ تصور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر انتظامیہ اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کے اشتراک سے ایک خصوصی ایئرپورٹ ایکسیس کوریڈور بھی منصوبہ بند کیا جا رہا ہے، جو ہوائی اڈے کو رنگ روڈ کے ساتھ جوڑے گا۔ اس منصوبے سے ایئرپورٹ کے اطراف ٹریفک دباؤ میں کمی آئے گی اور مسافروں کے لیے آمد و رفت مزید آسان ہوگی۔جاوید انجم نے کہا کہ سری نگر ہوائی اڈہ پہلے ہی مسافروں کی سہولت کے لیے متعدد جدید خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان میں ڈیجی یاترا، سیلف بیگیج ڈراپ کاؤنٹرز، مفت وائی فائی، میٹ اینڈ گریٹ سہولت، الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ اسٹیشن، مفت ای کارٹ سروس، فلائی بریری، لیپ ٹاپ ورک سٹیشنز، اسموکنگ لاؤنجز، بچوں کے لیے تفریحی زون اور مختلف خریداری و ریستوران سہولیات شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سری نگر ہوائی اڈے پر کارگو ہینڈلنگ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سالانہ کارگو حجم تقریباً سات ہزار میٹرک ٹن سے بڑھ کر دس ہزار پانچ سو میٹرک ٹن سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ ہوائی اڈے کی مجموعی سالانہ کارگو استعداد تقریباً چالیس ہزار میٹرک ٹن ہے۔ایئرپورٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ 15 جون کو یاتری سہولت دیوس منایا جائے گا جس کے دوران مسافروں کی سہولت اور آگاہی کے لیے مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید بتایا کہ رن وے کی از سر نو سطح بندی (ری سرفیسنگ) کے کام کے پیش نظر پروازی آپریشنز میں مرحلہ وار تعطل بھی رکھا گیا ہے۔ یکم جولائی سے 30 ستمبر تک ہر پیر اور منگل کو پروازیں معطل رہیں گی جبکہ یکم اکتوبر سے 16 اکتوبر تک ہوائی اڈہ مکمل طور پر بند رہے گا تاکہ رن وے کی مرمت اور اپ گریڈیشن کا کام مکمل کیا جا سکے۔ماہرین کے مطابق ہوائی اڈے کی توسیع نہ صرف سیاحت اور تجارت کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی بلکہ جموں و کشمیر کی مجموعی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری کے امکانات اور قومی فضائی نیٹ ورک سے رابطوں کو بھی نئی تقویت فراہم کرے گی۔