وزیر اعظم روزگار درخواستوں میں جموں و کشمیر ملک بھر میں سرفہرست

5برس میں ایک لاکھ 53 ہزار درخواستیں موصول، 98 ہزار منصوبوں کو منظوری

سرینگر//جموں و کشمیر نے پردھان منتری ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام کے تحت گزشتہ پانچ مالی برسوں کے دوران موصول ہونے والی درخواستوں کے لحاظ سے ملک بھر کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جبکہ اس عرصے کے دوران بینکوں نے 98 ہزار 982 منصوبوں کو منظوری دی ہے۔ یہ جانکاری مرکزی وزیر برائے خرد، چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعتی ادارے جیتن رام مانجھی نے لوک سبھا میں ایک سوال کے جواب میں فراہم کی۔یو این ایس کے مطابق پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں مالی سال 2021-22 کے دوران 36 ہزار 181 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 23 ہزار 955 منصوبوں کو منظوری دی گئی۔ 2022-23 میں 39 ہزار 341 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں 26 ہزار 777 منصوبے منظور کئے گئے۔ 2023-24 میں 38 ہزار 667 درخواستوں میں سے 25 ہزار 522، 2024-25 میں 28 ہزار 697 درخواستوں میں سے 17 ہزار 365 جبکہ 2025-26 میں 10 ہزار 411 درخواستوں میں سے 5 ہزار 363 منصوبوں کو منظوری دی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق پانچ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں مجموعی طور ایک لاکھ 53 ہزار 297 درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 98 ہزار 982 منصوبوں کو بینکوں نے منظوری دی۔یو این ایس کے مطابق مرکزی حکومت کے مطابق مارجن منی سبسڈی بھی بڑی تعداد میں مستحقین کو فراہم کی گئی۔ مالی سال 2021-22 میں 21 ہزار 648 منصوبوں، 2022-23 میں 12 ہزار 23، 2023-24 میں 15 ہزار 65، 2024-25 میں 9 ہزار 863 اور 2025-26 میں 7 ہزار 837 منصوبوں کیلئے سبسڈی جاری کی گئی۔مرکزی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ پی ایم ای جی پی درخواستوں کی جانچ اور پراسیسنگ میں عمل درآمد کرنے والی ایجنسیاں اوسطاً 58 دن لیتی ہیں، جبکہ بینکوں کو قرضوں کی منظوری میں اوسطاً 70 دن درکار ہوتے ہیں۔ اس کے بعد کھادی اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن مارجن منی سبسڈی جاری کرنے میں اوسطاً 84 دن صرف کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ قرضوں کی منظوری اور سبسڈی کے اجراء میں تاخیر کم کرنے کیلئے حکومت نے ریاستی اور ضلعی سطح کی مانیٹرنگ کمیٹیوں، سہ ماہی بینکرز اجلاسوں، آن لائن نگرانی، ایک ہزار سے زائد ماڈل پراجیکٹ رپورٹس، جان سمرتھ پورٹل سے انضمام، ریاستی ہیلپ ڈیسک اور دیگر اصلاحات متعارف کرائی ہیں تاکہ درخواست گزاروں کو جلد از جلد فائدہ پہنچایا جا سکے۔