پاکستان ٹیم کے لیے کیویز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ہوم سیریز اہم کیوں؟

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پانچ میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز جمعرات سے ہو رہا ہے۔ کرکٹ مبصرین اس سیریز کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل گرین شرٹس کی پریکٹس کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان اپنی فل اسٹرینتھ ٹیم میدان میں اتارے گی جب کہ اہم کیوی کھلاڑی انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں مصروفیت کی وجہ سے دستیاب نہیں ہیں۔
سیریز کے پہلے تین میچ راولپنڈی جب کہ آخری دو میچ لاہور میں کھیلے جائیں گے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق راولپنڈی میں ہونے والے تین میں سے کم از کم دو میچ بارش سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے بعد پاکستان ٹیم مئی میں یورپ جائے گی جہاں آئرلینڈ میں تین اور انگلینڈ میں چار ٹی ٹوئنٹی میچز شیڈول ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے قبل ان 12 میچز سے پاکستان ٹیم کو کمبی نیشن بنانے کا تو موقع ملے گا۔ البتہ انہیں ان کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا موقع نہیں ملے گا جن میں میگا ایونٹ کھیلا جائے گا۔
یاد رہے کہ رواں سال جون میں امریکہ اور ویسٹ انڈیز مشترکہ طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔ اگر پی سی بی کی جانب سے ایونٹ سے قبل ایک سیریز ان دونوں ملکوں میں کرا لی جاتی تو کھلاڑیوں کو میزبان ممالک کی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا موقع مل سکتا تھا۔
ورلڈ کپ کے لیے سینئر کھلاڑیوں پر انحصار
پاکستان کرکٹ ٹیم کی طرح دنیا کی زیادہ تر ٹیمیں پہلی مرتبہ امریکہ کے میدانوں پر انٹرنیشنل کرکٹ کھیلیں گی۔ البتہ شریک میزبان ویسٹ انڈیز کی کنڈیشنز میں کھیلنے کا تجربہ بہت سے کھلاڑیوں کو ہے۔
ویسٹ انڈیز میں 2013سے جاری کیربین پریمیئر لیگ (سی پی ایل) میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے کرکٹرز شرکت کرتے ہیں۔
گزشتہ سال کے ایڈیشن کے ٹاپ بلے بازوں اور بالرز میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شمولیت اسے دیگر ٹیموں پر فوقیت دلاتی ہے۔کیربین لیگ کے گزشتہ سیزن کے ٹاپ بلے بازوں کی فہرست میں گیانا کی نمائندگی کرنے والے صائم ایوب 478 رنز کے ساتھ دوسرے اور عماد وسیم 313 رنز کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود تھے۔ اسی طرح جمیکا کی جانب سے 16 وکٹیں حاصل کرنے والے محمد عامر ٹاپ بالرز میں تیسرے نمبر پر تھے۔محمد عامر اور عماد وسیم جس وقت کیربین پریمیئر لیگ میں شرکت کر رہے تھے اس وقت وہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے تھے۔ البتہ حال ہی میں دونوں کھلاڑیوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لے کر ٹیم میں شمولیت اختیار کی ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے عماد اور عامر کو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم میں شامل کیا ہے۔ امکان ہے کہ اگر انہوں نے اس سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھائی تو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں وہ پاکستان کی نمائندگی کرنے کے اہل ہوں گے۔ایک اور کھلاڑی جس نے گزشتہ سال سی پی ایل کے فائنل میں میچ وننگ اننگز کھیلی وہ صائم ایوب ہیں، جو اس وقت پاکستان ٹیم کا حصہ ہیں۔انہوں نے حال ہی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے نویں ایڈیشن کے دوران بطور آل راؤنڈر اپنا لوہا منوایا اور بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بالنگ میں بھی کارکردگی دکھائی۔ جس کی وجہ سے وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کے لیے ٹرمپ کارڈ ثابت ہوسکتے ہیں۔
دفاعی حکمت عملی، بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی
یہ سال ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سال ضرور ہے، لیکن اب تک پاکستان نے صرف ایک ٹی ٹوئنٹی سیریز کھیلی ہے جس میں اسے نیوزی لینڈ کے ہاتھوں انہی کے گراؤنڈز پر چار ایک سے شکست ہوئی تھی۔
کیویز کے خلاف رواں سال کے آغاز میں کھیلی گئی سیریز اور 18 اپریل سے شروع ہونے والی سیریز میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا فرق کپتان کا ہے۔ فاسٹ بالر شاہین شاہ آفریدی جو شکست کھانے والی سیریز میں پاکستان کے قائد تھے، اس سیریز میں بطور کھلاڑی شرکت کریں گے۔