اسٹار بلے باز وراٹ کوہلی نے نیوزی لینڈ کے خلاف پہلے ون ڈے میں۷۴؍ رن کی شاندار اننگز کھیل کر اپنے کریئر میں ایک اور اہم سنگ میل حاصل کرلیا۔ انہوں نے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں سچن تندولکر کو پیچھے چھوڑ دیا اور رکی پونٹنگ کی برابری کرلی۔ بدھ کو بارش سے متاثرہ مقابلے میں کوہلی کی اننگز محض رن تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ۵۰؍ اوور کے فارمیٹ میں ان کی غیر معمولی مستقل مزاجی کا ایک اور ثبوت بھی بنی۔ ہندوستان کے سابق کپتان مسلسل نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے کوہلی کے ون ڈے میں مجموعی طور پر۸۷۴۱؍رن ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سچن تندولکرکے ۸۷۲۰؍ رن کو پیچھے چھوڑ کر اس زمرے میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ کوہلی نے یہ کامیا بی ۲۱ء۶۶؍ کے اوسط اور۰۳ء۹۵؍ کے اسٹرائیک ریٹ سے حاصل کی جبکہ تندولکرکا اوسط۳۳ء۴۲؍ اور اسٹرائیک ریٹ ۴۴ء۸۸؍ تھا۔
۷۴؍ رن کی اس اننگز کے ساتھ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میں کوہلی کے مجموعی رن۱۹۷۱؍ ہوگئے ہیں۔ اس طرح وہ اس حریف ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ رن بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں رکی پونٹنگ کے برابر پہنچ گئے ہیں۔اس فہرست میں سچن تندولکر۱۷۵۰؍ رن کے ساتھ تیسرے مقام پر ہیں۔ سری لنکا کے کمار سنگاکارا۱۵۶۸؍، سنتھ جے سوریہ۱۵۱۹؍ اور جنوبی افریقہ کے جیک کیلس۱۴۴۹؍ رن کے ساتھ ٹاپ چھ بلے بازوں میں شامل ہیں۔کوہلی نے بیرون ملک ون ڈے میں اپنی کامیابیوں کی فہرست میں ایک اور ریکارڈ بھی جوڑ لیا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف ۳۵؍ گیندوں میں نصف سنچری مکمل کی جو بیرون ملک ون ڈے میں ان کی دوسری تیز ترین نصف سنچری ہے۔ بیرون ملک ان کی تیز ترین نصف سنچری ۲۰۱۶ء میں کینبرا میں آسٹریلیا کے خلاف۳۴؍ گیندوں پر بنی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ۲۰۱۸ء میں سینچورین میں جنوبی افریقہ کے خلاف۳۶؍ اور۲۰۱۷ء میں کولمبو کے آر پریم داسا اسٹیڈیم میں سری لنکا کے خلاف۳۸؍ گیندوں میں نصف سنچری بنائی تھی۔کوہلی کی حالیہ کامیابیاں اس لیے بھی اہم ہیں کہ وہ مختلف حالات اور حریف ٹیموں کے خلاف مسلسل عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔










