بی جے پی پارلیمنٹ سے لے کر دیہات تک ہر جگہ جواب دے گی/ امیت شاہ
سرینگر / این این بی // کانگریس اور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے الزام عائد کیا ہے کہ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کرنے اور کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کو کانگریس کی سیاسی روایت بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ بحث و مباحثے کا سب سے اعلیٰ اور اہم ترین فورم ہے، لیکن راہل گاندھی پارلیمنٹ کی کارروائی چلنے نہیں دیتے اور نہ ہی عوامی مسائل پر بامعنی بحث میں حصہ لیتے ہیں۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق کرنال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے منعقدہ ’لوک تنتر بچاو ¿، انارکی ہٹاو ¿‘ (جمہوریت بچاو ¿، افراتفری ختم کرو) مہم کے تحت ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا کہ راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی اور کارروائی کے بائیکاٹ کو کانگریس کی ثقافت میں تبدیل کر دیا ہے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے راہل گاندھی پر ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی 80 سالہ جمہوریت اتنی کمزور نہیں ہے کہ کسی کی سیاسی چالوں سے اسے نقصان پہنچایا جا سکے۔شاہ نے راہل گاندھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ملک کی 80 سالہ جمہوریت آپ کی چالوں کا شکار ہو جائے گی؟ انہوں نے کہا کہ بی جے پی آپ کی سرگرمیوں کا بھرپور جواب دے گی، خواہ وہ پارلیمنٹ ہو، ریاستی اسمبلیاں ہوں، دیہات ہوں یا ملک کا کوئی بھی حصہ ہے ۔ مرکزی وزیر داخلہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے معاملے پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کی اپنی تجویز بھی دہرائی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس معاملے پر سنجیدہ اور ذمہ دارانہ بحث چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ کے اندر آکر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے۔شاہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی انتخابی فہرستوں سے غیر ملکی دراندازوں کی نشاندہی کرکے ان کے نام خارج کرنے کے عزم پر قائم ہے، جبکہ انڈیا اتحاد مبینہ طور پر ایسے افراد کو تحفظ فراہم کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر کھلی بحث ہونی چاہیے تاکہ تمام فریقین اپنا موقف سامنے رکھ سکیں۔انہوں نے راہل گاندھی کے بیرون ملک دوروں کی تفصیلات بھی طلب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف ہیں اور عوام کو یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ وہ بیرون ملک کب اور کن مقاصد کے تحت دورے کرتے ہیں۔بی جے پی کی جانب سے ’لوک تنتر بچاو ¿، انارکی ہٹاو ¿‘ مہم ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب انتخابی بے ضابطگیوں اور جمہوری اداروں کے کام کاج کو لے کر بی جے پی اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سیاسی کشیدگی جاری ہے۔










