حقیقی تعلیم ذِمہ دار اور اچھے اِنسان بنانے میں مضمر ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

حقیقی تعلیم ذِمہ دار اور اچھے اِنسان بنانے میں مضمر ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ

وزیر اعلیٰ نے جموں میں ’ ڈائیوسیز آف جموں ۔ سری نگر ایجوکیشن سوسائٹی ‘ کے سالانہ ایوارڈ تقریب میں شرکت کی

جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کنونشن سینٹر میں ڈائیوسیز آف جموں ۔سری نگر ایجوکیشن سوسائٹی (ڈِی جے ایس اِی ایس) کی سالانہ ایوارڈ تقریب بعنوان ’آنر اینڈ ایکسیلنس 2026‘ میں شرکت کی۔ یہ تقریب کا مقصد تعلیمی کارکردگی، فرش شناسی پر مبنی خدمات اور ذِمہ دار شہری تیار کرنے میں سوسائٹی کے کردار کے اعتراف میں منعقد کی گئی۔تقریب میں دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ اِمتحانات میں شاندار کارکردگی دِکھانے والے طلبأکو اعزاز سے نوازا گیا۔ خدمات کے 25 سالہ وقف خدمات مکمل کرنے والے ملازمین کیاحوصلہ اَفزائی کی گئی اور سوسائٹی کے تعلیمی اِداروں کے نامور سابق طلبأ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اِجتماعی سے خطاب کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ تعلیم کا مقصد محض تعلیمی کارکردگی اور نمبروں کے حصول تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اِس کا مقصد ایسے ہمہ جہت اَفراد کی تعمیرہونا چاہیے جو مضبوط اَخلاقی اَقدار، آزادانہ سوچ اور صحیح و غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔وزیر اعلیٰ نے ڈائیوسیز کے تعلیمی اِداروں سے اَپنے تعلق کو یاد کرتے ہوئے بالخصوص برن ہال سکول سری نگر سے جہاں اُنہوں نے پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، اَپنے سکول کے دِنوں کی خوشگوار یادیں تازہ کیں اور تعلیم و کردار سازی میں اس ادارے کی دیرپا خدمات کو سراہا۔اُنہوں نے ڈائیوسیز آف جموں۔سری نگر ایجوکیشن سوسائٹی کی تعلیمی شعبے میں نمایاں خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سوسائٹی جموں و کشمیر اور لداخ میں 24 سکول چلا رہی ہے جن میں تقریباً 28,000 طلبأ زیر تعلیم ہیں اور یہ اِدارہ تقریباً 1,600 اَفراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’ان سکولوں سے سول سروس اَفسران، پولیس اَفسران، ڈاکٹر اور کاروباری رہنما نکلتے ہیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ ایسے کامیاب لوگ پیدا کرتے ہیں جو اچھے اِنسان بھی ہوتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ کسی تعلیمی اِدارے کی اصل کامیابی ایسے اَفراد کی پرورش میں ہے جو صحیح اور غلط میں فرق کر سکیں اور معاشرے میں مثبت کردار اَدا کر سکیں۔اُنہوں نے آزادانہ سوچ اور تجسس کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے طلبأ پر زور دیا کہ وہ سوالات پوچھنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں اور خیالات کو چیلنج کرنے اور جوابات تلاش کرنے کا اعتماد پیدا کریں۔اُنہوں نے کہا،’’کوئی سوال احمقانہ نہیں ہوتا، صرف جوابات احمقانہ ہوسکتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے طلبأ کو متجسس رہنے اور چیزوں کے پیچھے ’کیوں‘ اور ’کیسے‘ کو سمجھنے کی ترغیب دی۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ایک ایسی نسل کی ضرورت ہے جو موجودہ طور طریقوں پر سوال اُٹھانے، اَپنے اردگرد کے حالات کو سمجھنے اور حالات کو بہتر بنانے کے راستے تلاش کرنے کے لئے تیار ہو۔وزیراعلیٰ نے کہا،’’جو نسل سوال پوچھنے میں خوش ہو، وہ ہم سب کو جوابدہ بنائے گی۔ اور اگر ہم جوابدہ ہوں گے تو آنے والا کل کا جموں و کشمیر بہتر ہوگا۔’’اُنہوں نے آزادانہ سیکھنے کی عادت پروان چڑھانے پر زور دیتے ہوئے طلبأ کو مطالعے کی عادت اَپنانے اور آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کو ذِمہ دارانہ اور اَخلاقی انداز میں اِستعمال کرنے کی تلقین کی۔ اُنہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو سیکھنے اور سمجھنے کے عمل کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہونا چاہیے، نہ کہ یہ اِنفرادی کوشش، تنقیدی سوچ اور علمی تجسس کا متبادل بن جائے۔وزیر اعلیٰ نے کامیابی حاصل کرنے والے ہونہار طلبا کومُبارک باد دیتے ہوئے ان کی شاندار تعلیمی کامیابیوں کو سراہا اور 25 سالہ پُرعزم خدمات مکمل کرنے والے ملازمین کی تعلیمی مشن کے تئیں ان کی لگن کی ستائش کی۔اُنہوں نے ایجوکیشن سوسائٹی کی فیکلٹی، عملے اور اِنتظامیہ کی بھی سراہنا کی کہ اُن کی شاندار کاوشوں کی بدولت ان کے اِدارے نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ ایسے ہمہ جہت انسان بھی تیار کرتے ہیں جو اَقدار، ہمدردی اور ذِمہ داری کے احساس سے آراستہ ہوں۔سوسائٹی نے 2025-26 کے تعلیمی سال میں دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ اِمتحانات میں مجموعی طور پر 99 فیصد کامیابی کا ریکارڈ قائم کیا۔وزیر اعلیٰ نے سوسائٹی کی جانب سے ممتاز سابق طلبأ کو اعزاز دینے کی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ سابق طلبأ کی کامیابیاں نئی نسل کے لئے مشعلِ راہ ثابت ہوتی ہیں۔نوجوانوں کو فضیلت کے لیے کوشاں رہنے اور ساتھ ہی انسانیت اور اخلاقی اقدار سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مشہور شعر پڑھا:اُنہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہوئے کہ وہ انسانیت اور اخلاقی اقدار سے جڑے رہتے ہوئے عمدگی کے حصول کے لئے کوشاں رہیں۔ وزیراعلیٰ نے یہ مشہور شعر پیش کیا ؎
خودی کو کر بلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے،
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
اُنہوں نے کہا کہ تمام تر کامیابیوں سے بڑھ کر، سب سے اہم ذِمہ داری یہ ہے کہ اِنسان ایک اچھا انسان بنا رہے اور دوسروں کے ساتھ مہربانی اور ہمدردی کا برتاؤ کرے۔اُنہوں نے کہا،’’خود کو ایسا انسان بنائیے کہ جب آپ کا مستقبل لکھا جا رہا ہو تو اللہ تعالیٰ آپ سے پوچھے کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔ ہمیں بس اچھے لوگ، اچھے اِنسان اور ایک دوسرے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے بننا ہے۔ باقی سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘وزیربرائے تعلیم شمیم فردوس نے اَپنے خطاب میں آزاد ہندوستان کے تعلیمی نظام کی نئی بنیاد رکھنے میں مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات کو یاد کیا۔اُنہوں نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے اس کردار کو بھی اُجاگر کیا جس کے ذریعے اُنہوں نے خطے کے نظامِ تعلیم کو نئی سمت اور ویژن عطا کیا۔اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ تعلیمی اِدارے ان اقدار کو برقرار رکھیں گے اور معاشرے کے ذِمہ دار اور قابلِ قدر افراد تیار کرنے میں اپنا کردار اَدا کرتے رہیں گے۔وزیر اعلیٰ نے دیوالی کے آنے والے تہوار کے موقعہ پر بھی مُبارک باد پیش کی اور سب کے لئے اَمن، خوشی اور اِنسانیت کی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اُنہوں نے کہا،’’چوں کہ دیوالی میں اَب صرف تین دن باقی ہیں، اس لئے میں آپ سب کو روشنیوں کے اس تہوار کی بہت بہت مبارک بادپیش کرتا ہوںاور دعا گو ہوں کہ یہ تہوار ہماری زِندگیوں کو اَمن، خوشی اور اِنسانیت کی روشنی سے منور کر دے۔‘‘ اِس موقعہ پر صدر جموں۔ سری نگر کے بشپ اور ڈِی جے ایس اِی ایس رائٹ ریورنڈ آئیون پریرا، نائب صدرڈِی جے ایس اِی ایس ریورنڈ فادر سیبسٹین ناگاتھنکل اور سوسائٹی کے دیگر عہدہ دار بھی موجود تھے۔