وزیر نے قبائلی کمیونٹیوں کیلئے ترقیاتی فنڈز کی متناسب تقسیم پر زور دیا اور عوام سے را بطے اور شکایات کے بروقت اَزالے کی ہدایت دِی
سانبہ//وزیر برائے قبائلی امور، خوراک، شہری رسدات و اَمورصارفین اور ٹرانسپورٹ محکمہ جات جاوید احمد رانا نے سانبہ میں 7 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے لڑکیوں کے ہوسٹل کی تعمیر کا اعلان کیا۔ اِس اَقدام کا مقصد تعلیمی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور قبائلی طالبات کو بہتر رہائشی سہولیات فراہم کرنا ہے۔یہ اعلان یکم سے 15؍ نومبر تک جموں و کشمیر بھر میں منائے جا رہے ’’ جن جاتیہ گورَو پکھواڑا‘ کے سلسلے میں سانبہ میں قبائلی کمیونٹیوں کے اراکین کے ساتھ ایک تفصیلی بات چیت کے دوران کیا گیا۔اِس موقعہ پر وزیر موصوف نے رہائش، تعلیم، وظائف، صحت سہولیات، سڑکوں کے رابطے، پینے کے پانی، بجلی اور روزگار کے مواقع سے متعلق مختلف مطالبات اور شکایات سنیں۔ اُنہوں نے متعلقہ اَفسران کو ہدایت دی کہ اُٹھائے گئے مسائل کا جائزہ لیں اور ایک مقررہ مدت کے اندر ان کے حل کو یقینی بنائیں۔اُنہوں نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ جن جاتیہ گورَو پکھواڑہ ‘ صرف قبائلی کمیونٹیوں کی شاندار ثقافتی میراث اور ان کی خدمات کا جشن منانے کا موقعہ نہیں ہے بلکہ یہ نچلی سطح پر فلاحی اور ترقیاتی سکیموں کی فراہمی کو مضبوط بنانے کا موقع بھی ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لئے پُر عزم ہے کہ ترقیاتی فوائد ہر مستحق قبائلی گھرانے تک بالخصوص دُور دراز، دُشوار گزار اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والوں تک پہنچیں۔اُنہوں نے ایک اہم ہدایت میں تمام متعلقہ محکموں سے کہا کہ وہ ’نیتی آیوگ‘ اور وزارتِ قبائلی امور کے رہنما خطوط کے مطابق ؔترئبل سب پلان ( ٹی ایس پی) کے تحت قبائلی کمیونٹیوں کے لئے ترقیاتی فنڈز کی مناسب اور متناسب تقسیم کو یقینی بنائیں۔نہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ قبائلی بہبود کے لئے مختص رقوم قبائلی آبادی اور ان کی ترقیاتی ضروریات کے عین مطابق ہونی چاہئیں اِس کے علاوہ اس مقصد کے لئے مختص فنڈز کا مؤثر اِستعمال کیا جائے تاکہ بنیادی ڈھانچے، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع میں موجود کمیوںکو دُور کیا جا سکے۔جاوید رانا نے کہا کہ قبائلی ترقی پور ی اِنتظامیہ کی اِجتماعی ذمہ داری ہے اور اسے صرف’ محکمہ قبائلی امور‘ پرہی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اُنہوں نے دیہی ترقی، تعلیم، صحت، زراعت، مویشی پروری، سماجی بہبود، سکل ڈیولپمنٹ اور دیگر محکموں کے درمیان بہترہم آہنگی پر زور دیا تاکہ قبائلی کمیونٹیوں کی مربوط اور بامعنی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوںنے ضلعی اِنتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ ’ جن جاتیہ گورَو پکھواڑا‘ کے دوران قبائلی بستیوںمیں خصوصی کیمپ لگاکر ایسے مستحق کنبوں کی نشاندہی کی جائے جو اب تک مختلف سکیموں کے دائرہ کار سے باہر رہ گئے ہیں۔وزیربرائے قبائلی اَمور نے ضلع ترقیاتی سانبہ اور ضلعی اَفسران سے کہا کہ وہ رہائش، وظائف، صحت، سماجی تحفظ، ہنر مندی، روزگار اور روزگار کی سکیموں کے تحت اہل قبائلی گھرانوں کی زیادہ سے زیادہ کوریج کو یقینی بنائیں۔اُنہوںنے واضح کیا کہ ’جن جاتیہ گورَپکھواڑا‘ کی کامیابی صرف منعقد کئے گئے پروگراموں کی تعداد میں نہیں بلکہ قبائلی کنبوں کوملنے والے حقیقی فوائد سے ہونا چاہیے۔اُنہوں نے مزیدکہاکہ قبائلی بستیوں میں ترقیاتی کمیوںکی نشاندہی کی جائے اور ان کی ضروریات کو محکمانہ منصوبوں میں شامل کیا جائے تاکہ قبائلی کمیونٹیوں کو مجموعی ترقیاتی عمل میں ان کا حق ملے۔جاوید رانانے اَفسران سے اپیل کی کہ وہ قبائلی نمائندوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے جائز مسائل اور شکایات کا فوری اَزالہ کیا جائے۔بعد میں اُنہوں نے جتوال سانبہ میںایف آئی سی گودام کا معائینہ کیااور اُنہوں نے وہاںخوراک کی دستیابی، ذخیرہ کرنے کی صورتحال، معیار کنٹرول کے اِنتظامات اور پبلک ڈِسٹری بیوشن سسٹم کے کام کرنے کا جائزہ لیا۔اُنہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ خوراک کی کافی دستیابی، مناسب ذخیرہ، باقاعدہ سپلائی اور مستفیدین کو بغیر کسی پریشانی کے بروقت راشن کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔وزیرموصوف اِس بات کا اعادہ کیاکہ شفافیت، جوابدہی اور ضروری اشیأ کی بلا تعطل فراہمی محکمہ کی اوّلین ترجیحات ہونی چاہئیں۔اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر سانبہ ہ، قبائلی امور، محکمہ خوراک ،شہری رسدات و اَمور صارفینا، دیہی ترقی اور دیگر محکموںکے سینئر اَفسران کے علاوہ قبائلی کمیونٹیوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔










