علی محمد ساگر نے محکمہ قانون ، اِنصاف اور پارلیمانی اَمور کے کام کاج کا جائزہ لیا

علی محمد ساگر نے محکمہ قانون ، اِنصاف اور پارلیمانی اَمور کے کام کاج کا جائزہ لیا

شفافیت ، جوابدہی ، مؤثر مقدمات کی اِنتظام کاری اور عوام دوست خدمات پر زور دِیا

جموں//وزیر برائے قانون، اِنصاف و پارلیمانی امور، ریونیو، پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ،ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریلیف، رِی ہیبلی ٹیشن و رِی کنسٹرکشن اور الیکشن محکمہ جات علی محمد ساگر نے آج سول سیکرٹریٹ جموں میں محکمہ قانون، اِنصاف و پارلیمانی امور کا ایک جامع جائزہ میٹنگ منعقد کی جس میں محکمے کی مجموعی کارکردگی، اِنتظامی امور، جاری اقدامات اور مختلف اہم شعبوں میں حاصل شدہ پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری قانون اچل سیٹھی، سپیشل سیکرٹری قانون، ڈائریکٹر فائنانس محکمہ قانون، ڈائریکٹر لٹی گیشن اور محکمے کے دیگر سینئر اَفسران نے شرکت کی۔میٹنگ کے شروعات میںکمشنر سیکرٹری قانون نے وزیرموصوف کو محکمہ کی مجموعی کارکردگی، اس کے انتظامی ڈھانچے اور اِدارہ جاتی ذمہ داریوں کے بارے میں جانکاری دِی۔ اِس موقعہ پرہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ کی منظور شدہ تعداد، ایڈوکیٹ جنرل آفس کی منظور شدہ تعداد اور سپریم کورٹ میں یونین ٹیریٹر ی کی نمائندگی کرنے والے وُکلأ کی تعیناتی اور کام کے طریقۂ کار پر ایک تفصیلی پرزنٹیشن دی گئی۔میٹنگ میں موجودہ نظامِ انتظامِ مقدمات، مقدمہ جاتی پالیسیوں کی نگرانی، عدالتی مقدمات کی مؤثر طریقے سے نمٹانے اور عدالتی احکامات کی تعمیل پربھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ وزیرموصوف نے محکمہ سے متعلق مقدمات کی نگرانی کے لئے موجود طریقۂ کار کا جائزہ لیا اور مختلف عدالتی فورمز کے سامنے بروقت جوابات، مناسب ہم آہنگی اور حکومت کی مؤثر نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔میٹنگ میں عوام کو قانونی معلومات اور خدمات تک رَسائی آسان بنانے کے لئے شروع کئے گئے ڈیجیٹل اقدامات اور آن لائن سروس ڈیلیوری کے نظام میں ہونے والی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔علی محمد ساگر نے عدالتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا بھی جائزہ لیاجس میں جاری کام، مکمل شدہ منصوبوں اور دیگر ڈھانچہ جاتی ضروریات کی پیش رفت شامل تھی۔ اُنہوں نے منصوبوں کی بروقت تکمیل، مؤثر نگرانی اور متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عدالتی بنیادی ڈھانچے کو ایک منصوبہ بند اور مقررہ مدت کے اندر مضبوط کیا جائے۔اُنہوں نے محکمہ میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ سے متعلق امور جیسے کیریئر میں ترقی، ترقیوں کے مواقع اور ملازمین کو ملازمت سے متعلق مراعات کی بروقت ادائیگی کا بھی جائزہ لیا۔وزیر موصوف نے مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے محکمہ کو مزید شفاف، جوابدہ، فعال اور عوام دوست بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ تمام قانونی اور اِنتظامی امور مقررہ قواعدوضوابط اور طے شدہ پالیسیوں کے عین مطابق نمٹائے جائیں۔اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ مقدمات کی ذِمہ داری سنبھالنے والے ہر آفیسر کو عدالتی کارروائیوں کے بارے میں چوکس رہنا چاہیے، جوابات بروقت داخل کرے اور عدالتی احکامات کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے ۔ اس کے علاوہ غیر ضروری تاخیر یا خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے مناسب اَقدامات کرنے چاہئیں۔ اُنہوں نے مزید ہدایت دی کہ عدالتی احکامات کی عدم تعمیل، مقررہ اَصولوں کی خلاف ورزی یا طریقۂ کار میں بے قاعدگیوں کے کسی بھی واقعے کی مناسب نگرانی کی جانی چاہیے۔وزیر برائے قانون ، انصاف و پارلیمانی امور علی محمد ساگر نے کہا کہ محکمے کے کام کاج میں عوامی خدمات کی فراہمی کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ قانونی معاونت، معلومات یا دیگر خدمات کے لئے محکمہ سے رجوع کرنے والے عام شہریوں کے ساتھ مناسب رویہ اِختیار کیا جائے اور انہیں بروقت رہنمائی اور ضروری مدد فراہم کی جائے۔اُنہوںنے بالخصوص اسٹامپس، قانونی حدود، مقررہ اصولوں کی خلاف ورزیوں اور دیگر ایسے قانونی مسائل کے سلسلے میں جن میں محکمانہ مداخلت درکار ہو، زیادہ اِنتظامی فعالیت، مابین باہمی ہم آہنگی اور جوابدہی کی ضرورت پر ور دیا۔اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ محکمہ کو اِنتہائی پیشہ ورانہ مہارت، شفافیت اور جوابدہی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے اَفسران کو ہدایت دی کہ محکمہ کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی یقینی بنائیں، مقدمات کے اِنتظام کے طریقۂ کار کو مضبوط کریں اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی کے لئے ڈیجیٹل اقدامات کی عمل آوری میں تیزی لائیں۔