تقریباً ۲۰۰؍ رنز بنانے کے باوجود چھ سے زیادہ اوور باقی رہتے ہوئے شکست کا سامنا کرنا کسی ایک شعبے کی ناکامی نہیں بلکہ پوری حکمت عملی پر نظر ثانی کا تقاضا کرتا ہے۔ نیوزی لینڈ کو جمعہ کو چوتھے ٹی ۲۰؍بین الاقوامی میچ میں ہندوستان کا سامنا کرتے ہوئے اس چیلنج کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ پانچ میچوں کی سیریز میں ہندوستان پہلے ہی ۰۔۳؍ کی ناقابل شکست برتری حاصل کرچکا ہے، لیکن ٹیم کی کوشش ہوگی کہ کامیابی کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے سیریز میں ۰۔۴؍ کی برتری حاصل کرے۔ تیسرے ٹی۲۰؍ میں ہندوستان نے ۱۹۹؍ رنز کا ہدف محض ۲ء۱۳؍ اوور میں چار وکٹ کے نقصان پر حاصل کرکے چھ وکٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس دوران نیوزی لینڈ کے گیندبازوں کو ایک حملے سے سنبھلنے کا موقع ملتا، اس سے پہلے ہی دوسرا حملہ شروع ہوگیا۔
ابھیشیک شرما نے۳۸؍ گیندوں پر ۱۱۳؍ رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر ہدف کے تعاقب کا نقشہ ہی بدل دیا، جبکہ ویبھو سوریہ ونشی نے ۱۹؍ گیندوں پر ۴۵؍رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ نیوزی لینڈ کے لیے چیلنج صرف ابھیشیک کو آؤٹ کرنا نہیں بلکہ انہیں میچ پر حاوی ہونے سے روکنا ہے۔ میزبان ٹیم کو ہندوستانی بلے بازوں کو رنز بنانے کے لیے زیادہ محنت پر مجبور کرنے کے لیے نظم و ضبط کے ساتھ گیندبازی اور مختلف انداز اپنانا ہوگا، کیونکہ ایک مہنگا اوور کئی کفایتی اوورز کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے۔
دوسری جانب ہندوستانی گیندبازی کے لیے بھی تیسرے میچ میں نیوزی لینڈ کا تین وکٹ پر ۱۹۸؍ رنز بنانا ایک یاد دہانی ہے۔ اگرچہ ہندوستانی بلے بازوں نے شاندار کارکردگی سے ٹیم کو مشکل سے نکال لیا، لیکن گیندبازی یونٹ کو خاص طور پر آخری اوورز میں مزید بہتری کی ضرورت ہوگی۔ سیریز کا نتیجہ پہلے ہی طے ہوچکا ہے، اس لیے ہندوستان چوتھے میچ میں اپنی پلیئنگ الیون میں کچھ تبدیلیوں کے ذریعے ٹیم کی گہرائی کو بھی آزما سکتا ہے، تاہم جیت کی رفتار برقرار رکھنا اہم ہوگا۔
ایڈن پارک کی چھوٹی باؤنڈری ایک بار پھر جارحانہ کرکٹ کے لیے سازگار ہوسکتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ہدف بالکل واضح ہے: ایک اور جیت اور۰۔۴؍ کی برتری جبکہ نیوزی لینڈ کے لیے چیلنج کہیں زیادہ بڑا ہے۔ اس لیے چوتھا ٹی ۲۰؍ میچ صرف سیریز کے اسکور کارڈ تک محدود نہیں ہے۔ یہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ کیا نیوزی لینڈ آخری میچ سے قبل کوئی حل نکال پاتا ہے اور کیا ہندوستان بڑے اسکور کو بھی اتنی آسانی سے حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھ پاتا ہے۔










