دہلی-این سی آر میں دیوالی کے دوران پٹاخے جلانے پر پابندی سے متعلق معاملہ میں سپریم کورٹ نے جمعرات کو سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسنّا وی برالے پر مشتمل بنچ نے فضائی آلودگی سے نمٹنے کے حکومتی اقدامات اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے بارے میں سخت سوالات کیے۔ عدالت نے کہا کہ ہر سال احکامات جاری کیے جاتے ہیں، مگر ان پر عمل کم اور خلاف ورزی زیادہ ہوتی ہے۔ بنچ کے مطابق، یہ معاملہ عدالت کے لیے ’اکیڈمک مشق‘ بنتا جا رہا ہے، اس لیے آلودگی سے نمٹنے کے لیے نئے اور مؤثر طریقے اپنانے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے حکومت سے پوچھا کہ عوام، بالخصوص نوجوانوں میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے وراٹ کوہلی جیسے مقبول کھلاڑیوں اور سماجی طور پر معتبر شخصیات کی مدد کیوں نہیں لی جا سکتی۔ اس نے کہا کہ بچے درست معلومات ملنے پر اپنے والدین کو بھی پٹاخے نہ جلانے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
دہلی حکومت اور فضائی معیار کے انتظام کے کمیشن (سی اے کیو ایم) کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے بتایا کہ یکم نومبر سے نئی کارروائی شروع ہوگی۔
ان کے مطابق، دہلی میں باہر سے آنے والی صرف بی ایس 6 معیار کی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوگی، سرکاری دفاتر کے اوقات بدلے گئے ہیں، تعمیراتی مقامات پر اینٹی اسموگ گنز لگائی گئی ہیں اور دارالحکومت میں ایسی 608 مشینیں تعینات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ جن دنوں پٹاخے جلانے کی اجازت دی گئی، ان دنوں فضائی معیار کا اشاریہ نسبتاً بلند رہا۔
بنچ نے پوچھا کہ دہلی کے 39 فضائی نگرانی مراکز میں سے صرف نو کیوں فعال تھے، اور سابقہ احکامات پر عمل درآمد کی تفصیلی رپورٹ کہاں ہے۔ عدالت نے معائنہ ٹیموں، ان کے دوروں، جمع کردہ اعداد و شمار اور چینی پٹاخوں کی فروخت کے خلاف کارروائی کی تفصیل بھی طلب کی۔ اس نے خبردار کیا کہ زمینی سطح پر نفاذ کے بغیر احکامات بے اثر رہیں گے۔
عدالت کے مقرر کردہ امیکس کیوری نے کہا کہ پٹاخوں سے باریک ذرات اور زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق، نام نہاد ’’گرین پٹاخوں‘‘ کی جانچ اور فروخت کے نظام میں خامیاں ہیں: عام پٹاخوں پر گرین لیبل لگائے جاتے ہیں اور بعض کیو آر کوڈ جعلی ہیں۔ گرین پٹاخے بھی مکمل طور پر آلودگی سے پاک نہیں؛ ان سے عام پٹاخوں کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کم اخراج ہوتا ہے۔
بنچ نے کہا کہ وہ تہواروں پر آتش بازی کی خواہش رکھنے والوں کے جذبات سمجھتی ہے اور مکمل پابندی کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں، تاہم سخت نگرانی ضروری ہے۔ درخواست گزار گوپال شنکرنارائنن نے کہا کہ حکومت پالیسی پر غور کے لیے دو ہفتے مانگ رہی ہے، جبکہ پٹاخوں کی فروخت اور فراہمی جاری ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔










