بھارت ایسے خطے کا خواہاں جہاں امن اور استحکام محض خواہش نہ ہوں بلکہ یقینی بنایا جائے:راجناتھ سنگھ
سرینگر / / این این بی // تمام شکلوں میں دہشت گردی کے خاتمے اور اجتماعی علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے سلسلے میں بھارت کا تجربہ محض نظریاتی علم تک محدود نہیں، بلکہ سرحد پار سلامتی کے پیچیدہ چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے کئی دہائیوں میں حاصل ہونے والے عملی تجربات پر مبنی ہے۔نیشنل نیوز بیورو ( این این بی ) کے مطابق فلپائن کے شہر سیبو میں آسیان کے وزرائے دفاع کی 13ویں میٹنگ پلس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت کی دفاعی حکمت عملی کو حقیقی حالات میں عملی کارروائیوں کے ذریعے آزمایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں اسے مزید موثر اور مضبوط بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے عملی اور فعال دفاعی نظریے کا فیصلہ کن مظاہرہ آپریشن سندور کے دوران دیکھنے کو ملا، جب دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف ایک واضح حد مقرر کی گئی، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔وزیر دفاع نے زور دیا کہ دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔
اس لیے اس خطرے سے نمٹنے کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مشترکہ فوجی مشقوں، صلاحیت سازی کے پروگراموں اور انٹیلی جنس کے مو ¿ثر تبادلے کے ذریعے اے ڈی ایم ایم پلس کے شراکت دار ممالک کے ساتھ اپنا عملی تجربہ بانٹنے کے لیے تیار ہے۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اے ڈی ایم ایم پلس کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائی باہمی تعاون کا ایک اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت اور ملائیشیا 2024 سے 2027 تک دہشت گردی کے خلاف کارروائی سے متعلق ماہرین کے ورکنگ گروپ کی مشترکہ صدارت کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مشترکہ اقدامات سے رکن ممالک کی اجتماعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، سلامتی سے متعلق چیلنجوں سے مو ¿ثر انداز میں نمٹنے اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔وزیر دفاع نے آسیان کے مرکزی کردار اور ایک محفوظ، کھلے، جامع، مستحکم اور قواعد پر مبنی ہند-بحرالکاہل خطے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ایسے خطے کا خواہاں ہے جہاں امن اور استحکام محض خواہشات نہ ہوں بلکہ مشترکہ عزم اور عملی تعاون کے ذریعے انہیں یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ آسیان کے ساتھ بھارت کی تزویراتی شراکت داری طویل مدتی بنیادوں پر قائم ہے، جو مشترکہ مفادات، باہمی احترام اور عملی تعاون سے تقویت حاصل کرتی ہے۔راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ سال اکتوبر میں کوالالمپور میں منعقدہ آسیان-بھارت وزرائے دفاع کی دوسری غیر رسمی میٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں آسیان-بھارت جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید آگے بڑھانے اور 2026 سے 2030 تک کے لائحہ عمل کے تحت دفاعی و سلامتی تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا تھا۔راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اس اجلاس کا موضوع یاد دلاتا ہے کہ ممالک کی سب سے بڑی طاقت باہمی یکجہتی اور جغرافیائی، اقتصادی اور تزویراتی تنوع سے فائدہ اٹھانے کی مشترکہ صلاحیت میں مضمر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک ایسے بین الاقوامی نظام پر یقین رکھتا ہے جو باہمی اعتماد، تعاون اور اجتماعی ذمہ داری کی بنیاد پر قائم ہو۔ ان کے مطابق تعاون کا یہی جذبہ ممالک کو امن و سلامتی کے حوالے سے درپیش چیلنجوں پر قابو پانے اور ایک مستحکم مستقبل کی تعمیر میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔










