ہم سب کی اِجتماعی ذِمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو ایسے پلیٹ فارم مہیا کریں جہاں ان کی توانائی کو مثبت سمت ملے۔ منوج سِنہا
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ’’پیڈل تھرو پیراڈائز‘‘ سائیکلنگ ایونٹ کے جیتنے والوں کو مُبارک باد دِی اور شرکاء کی جوش وخروش، عزم اور اُمنگوں کی ستائش کی۔اُنہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایونٹ ایک نئے جموں و کشمیر کی اُمید، خود اعتمادی اور پُر جوش جذبے کی عکاسی کرتا ہے جسے یہاں کے نوجوانوں کی توانائی اور صلاحیت آگے بڑھارہی ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر پولیس کی ستائش کی کہ اُنہوں نے بامعنی عوامی رابطے اقدامات کے ذریعے اَپنے رول کو محض تحفظ اور قانون عملانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر کام کیا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ’’پیڈل تھرو پیراڈائز‘‘ جیسے پروگرام نظم و ضبط کو ترغیب اور فرض شناسی کو سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑ کر شہریوں کے ساتھ اعتماد کے رِشتے کو مضبوط بنانے کے عزم کو ظاہرکرتے ہیں۔اُنہوں نے کہا،’’ ’پیڈل تھرو پیراڈائز‘ جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جموں و کشمیر پولیس نے تحفظ کو ہمدردی ، نظم و ضبط کو ترغیب اور فرض کو سماجی وابستگی کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے تاکہ یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ دِلوں کے رشتے استوار کئے جا سکیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جیتنے والوں کی کامیابی جموں و کشمیر کی بدلتی ہوئی تصویر کی علامت ہے اوریہ نوجوانوں کی اس صلاحیت کو اُجاگر کرتی ہے جس کے ذریعے وہ سب کی شمولیت والی ترقی اور قومی تعمیر میں اَپنا حصہ اَدا کرسکتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس کے سول ایکشن پروگراموں نے نوجوانوں کی شمولیت، مہارتوں کی ترقی اور کھیلوں میں عمدہ کارکردگی کے لئے نئے مواقع پیدا کئے ہیںجس سے معاشرے میں اعتماد اور تعمیری شرکت کو فروغ مل رہا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’جموں و کشمیر کی کہانی اَب ماضی کے چیلنجوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ حال کی کوششوں اور مستقبل کے اِمکانات کی داستان بھی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر اِمکانات کی سرزمین کے طور پر اُبھر رہا ہے جہاں نوجوان کھیلوں، تعلیم، جدت طرازی اور انٹرپرینیور شپ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ کسی بھی خطے کی حقیقی ترقی تبھی ممکن ہے جب وہاں کے نوجوانوں کو مواقع تک رَسائی حاصل ہو، انہیں اَپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہو اور ان میں اِتحاد کا مضبوط احساس موجود ہو۔اُنہوں نے کہا،’’میں نے ہمیشہ اِس بات پر زور دیا ہے کہ کسی بھی خطے کی حقیقی ترقی تب ہوتی ہے جب اس کے نوجوانوں کی آنکھوں میں یقین، ہاتھوں میں مواقع اور دلوں میں اتحاد کا جذبہ ہو۔ مجھے یقین ہے کہ ’’پیڈل تھرو پیراڈائز‘‘جیسے ایونٹوں جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو اَپنی صلاحیتوں، محنت اور عزم کے ذریعے قوم کی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار اَدا کرنے کی ترغیب دیں گے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’’پیڈل تھرو پیراڈائز‘‘اور ’’جشنِ ڈل‘‘جیسے اَقدامات محض کھیلوں کے مقابلے نہیں ہیں بلکہ یہ شرکأ میں نظم و ضبط، اِستقامت اور مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ اُنہوں نے شہریوں سے مثبت خیالات، علم اور اِختراع کو اَپنانے کی اپیل کی تاکہ اِجتماعی ترقی ممکن ہو سکے۔اُنہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی طاقت قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہے اورنوجوانوں کی حوصلہ اَفزائی کی کہ وہ کھیلوں اور سماجی پروگراموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔ اُنہوں نے منشیات سے پاک جموں و کشمیر کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیا کہا کہ معاشرے کو منشیات کے عادی اَفراد کی ہمدردی اور نگہداشت کے ساتھ مددکرنی چاہیے تاکہ انہیں دوبارہ مرکزی دھارے میں شامل کیا جاسکے۔
لیفٹیننٹ گورنرنے تمام شراکت داروںپر زور دیا کہ وہ اَمن، ترقی اور ایک صحت مند، خوشحال اور محفوظ جموں و کشمیر کے لئے مل کر کام کریں اور کھیلوں کے ذریعے مثبت تبدیلی کے جذبے کو آگے بڑھانے پر تمام شرکأ کو مُبارک باد دِی ۔اُنہوں نے کہا،’’یہ ہم سب کی اِجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم نوجوانوں کو ایسے پلیٹ فارم فراہم کریں جہاں ان کی توانائی کو مثبت سمت ملے، ان کی صلاحیتوں کی حوصلہ اَفزائی ہو اور ان کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر ہونے کا موقع ملے۔معاشرے کے تمام طبقوں کو منشیات کے خلاف جنگ میں حصہ لینا چاہیے۔ آج ہمیں تین عہد کرنے چاہئیں۔پہلا ہم ہمیشہ امن کے لئے آگے بڑھیں گے،دوسرا ہم ترقی کے لئے آگے بڑھیں گے اورتیسرا ہم ایک صحت مند، خوشحال، محفوظ اور روشن جموں و کشمیر کی تعمیر کے لئے آگے بڑھیں گے۔‘‘ اعزازی تقریب میں ڈِی جی پی نلن پربھات،سپیشل ڈِی جی کوآرڈی نیشن پی ایچ کیو ایس جے ایم گیلانی، کمانڈنٹ جنرل ہوم گارڈز عبدالغنی میر، اے ڈِی جی پی آرمڈ نتیش کمار،اے ڈِی جی ، بی ایس ایف اشوک یادو، ڈائریکٹر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز آلوک کمار، پولیس اور سول اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران، سائیکلنگ ایسوسی ایشنوں کے اراکین، ممتاز شہریوں اور بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔










