لفٹینٹ گورنر نے یو پی ایس سی 2025 اور جے کے اے ایس 2024 کے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی

لفٹینٹ گورنر نے یو پی ایس سی 2025 اور جے کے اے ایس 2024 کے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی

انہیں عوامی خدمت میں عاجزی ، ہمدردی اور دیانتداری برقرار رکھنے کی تلقین کی

سرینگر//لفٹینٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے یو پی ایس سی سول سروسز امتحان 2025 اور جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس ( جے کے اے ایس ) امتحان 2026 کے کامیاب امیدواروں کیلئے منعقد کی گئی اعزازی تقریب سے خطاب کیا ۔ امیدواروں کو ان کی شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے ان کے والدین کیلئے بھی نیک کواہشات کا اظہار کیا ، جن کی بے لوث کوششوں نے انہیں اپنے مقاصد کی تکمیل میں مدد دی ۔ نوجوان افسران سے مخاطب ہوتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے ملک کی سب سے سخت مقابلہ جاتی امتحانات میں سے ایک میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ لیکن انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے کہ عہدے زاتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی طرف سے ان پر رکھی گئی ایک امانت ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ عاجزی اچھی حکمرانی اور موثر انتظامیہ کی سب سے اہم شرط ہے ۔ جے کے اے ایس افسران سے خطاب کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ان کی کامیابی نہ صرف انفرادی میرٹ بلکہ جموں و کشمیر کی امنگوں ، لچک اور جمہوری جذبے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے یو ٹی کی بھر پور فکری اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا اور یقین ظاہر کیا کہ نوجوان افسران سچائی ، انصاف اور عوامی بہبود میں اہم کردار ادا کریں گے ۔ لفٹینٹ گورنر نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کے سول سروسز کے ویژن کو بھی یاد کیا ، جسے انہوں نے قوم کا ’’ اسٹیل فریم ‘‘ قرار دیا تھا ۔ لفٹینٹ گورنر نے کامیاب امیدواروں سے کہا کہ وہ عوامی خدمت کی وقار کو برقرار رکھیں اور عوامی پہچان کے بجائے معنی خیز کام پر توجہ دیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک منتظم کا حقیقی امتحان اس بات میں ہے کہ وہ سب سے کمزور شہریوں کے مسائل کا حساس انداز میں جواب دے ۔ انہوں نے کہا ’’ ہر فائل کے پیچھے ایک قیمتی زندگی ہوتی ہے ۔ میں آپ کو یہ بھی تاکید کرتا ہوں کہ فائلوں کے پیچھے چھپے ڈیٹا کو بھی دیکھیں اور ان اعداد و شمار کے پیچھے کھڑے لوگوں کو پہچانیں اور ان کی ضروریات کو سمجھیں ۔ قیادت کوئی خاص استحقاق نہیں بلکہ دوسروں کی خدمت کرنے ، ان کی رہنمائی کرنے ، ان کی مدد کرنے اور انہیں بااختیار بنانے کی ایک بڑی ذمہ داری ہے ۔ ‘‘ لفٹینٹ گورنر نے ان کے مستقبل کے پیشہ وارانہ سفر کیلئے تین مراحل کا ایک فریم ورک بھی پیش کیا ۔ انہوں نے نوجوان افسران سے کہا کہ پہلے مرحلے میں وہ براہ راست شہریوں اور مقامی اداروں سے رابطہ کر کے زمینی حقیقتوں کو سمجھیں ۔ دوسرے مرحلے میں انہوں نے مشورہ دیا کہ وہ شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام بنائیں جو تاخیر کو کم کریں اور سروس ڈیلوری کو بہتر بنائیں ۔ تیسرے مرحلے میں انہوں نے کہا کہ مستقبل میں قیادتی عہدوں پر فائز ہوتے ہوئے اداروں کی حفاظت کریں اور اخلاقی معیارات کو برقرار رکھیں ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ 2047 کا ہندوستان آج کے نوجوان سرکاری ملازمین کی اقدار ، کام کی ثقافت اور فیصلوں سے تشکیل پائے گا ۔ انہوں نے انہیں عوامی فلاح و بہبود کیلئے خود کو وقف کرنے اور یہ یقینی بنانے کی تلقین کی کہ ان کی میراث دفتر کے وقار سے نہیں بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں پر ان کے مثبت اثرات سے متعین ہو ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ مستقبل کی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر ہے ۔ ایسے لمحات آتے ہیں جب تاریخ کا رُخ غیر معمولی رفتار سے بدل جاتا ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ ہم آج ایسے ہی ایک دور سے گذر رہے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کی خدمت اس طرح کریں گے کہ یہ ان کی زندگیوں میں نظر آئے اور آپ کی زندگی آپ کے دفتر کے وقار سے نہیں بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے نتائج سے پہچانی جائے ۔ ‘‘ اعزازی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل جے اینڈ کے انسٹی تیوٹ فار مینجمنٹ ، پبلک ایڈمنسٹریشن اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ( جے کے آئی ایم پی اے آر ڈی ) ، ایس ایس پی سرینگر ، ڈپٹی کمشنر سرینگر ، ڈائریکٹر ایکسپشنل اکیڈمی اور اکیڈمی کے عہدیداران نے شرکت کی ۔