دینی تعلقات میں والدین اور اولاد کا تعلق سب سے بلند مرتبہ رکھتا ہے۔ اسلام نے والدین کے احترام کو بے حد اولیت دی ہے، کیونکہ بچے کی پیدائش، پرورش اور دینی تعلیم و تربیت کا ذریعہ والدین ہی ہوتے ہیں۔ ان سے سخت کلامی تو دور کی بات، بلند آواز سے جواب دینا بھی ناپسندیدہ فعل مانا جاتا ہے۔
اگر بدقسمتی سے کسی کے والدین کافر یا مشرک ہوں، تب بھی ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر والدین تمہیں شرک پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں تو اس معاملے میں ان کی اطاعت نہ کرو، لیکن دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ بہتر سلوک کرو۔ والدین کا اپنے بچوں سے نہایت قریبی رشتہ ہوتا ہے۔ اس سے بڑھ کر قریبی رشتہ دنیا میں ممکن نہیں، اور جس قدر جذبۂ محبت والدین اپنے بچوں کے لیے رکھتے ہیں، اس کی برابری دنیا کا کوئی دوسرا رشتہ نہیں کر سکتا۔ اولاد کے لیے والدین کے احسانات کا بدلہ چکانا ممکن نہیں، مگر جوان ہو کر اپنے والدین کی ذمہ داری اٹھانا، ان کی خدمت کرنا، ان کے لیے بہتر رہائش اور خوراک کا انتظام کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اولاد کے فرائض میں شامل ہے۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور احترام کے معاملے میں اسلام نے مسلمان اور غیر مسلم کی تمیز کو بھی روا نہیں رکھا۔ دوسروں کے والدین کا احترام بھی اپنے والدین کی طرح کرنا چاہیے۔ تاہم، یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اپنے ماں باپ کا احترام کرنا سیکھیں۔
لیکن جب آج ہم اپنے اطراف میں نظر ڈالتے ہیں تو والدین کی بے ادبی کے واقعات عام طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کی خواہشات کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ خدمت تو دور کی بات، اولاد کو ان سے دو میٹھے بول بولنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اولاد ایسا رویہ اختیار کرتی ہے کہ والدین کو دکھ اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ چاہے دل لگا کر پڑھنے کا معاملہ ہو یا اپنی پسند کی شادی کا، بعض اوقات اولاد کی نافرمانی والدین کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے والدین سے معافی مانگیں، ان کی شکایات کا ازالہ کریں اور انہیں خوش رکھنے کی بھرپور کوشش کریں۔ اسی میں ہماری نجات اور فلاح ہے۔ والدین کی دل جوئی ہی سے اولاد کی زندگی خوشیوں اور مسرتوں کا گہوارہ بن سکتی ہے۔










