اس حقیقت سے انکار نہیں کہ احساسِ برتری اور احساسِ کمتری ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ ہمارے معاشرے یا سماج میں تقریباً 80 فیصد افراد اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ عموماً یہ احساس دوسروں کے مقابلے میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر مقابلے میں کوئی نہ ہو تو یہ احساس نہیں ہو سکتا۔ احساسِ برتری کبھی علم، کبھی دولت اور کبھی خوب صورتی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کوئی زیادہ پڑھا لکھا ہو تو دوسروں کو اپنے سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ کوئی دولت مند ہو تو باقی لوگوں کو کم تر سمجھنے لگتا ہے اور کوئی اپنی خوب صورتی زیادہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کو بدصورت کہنے لگتا ہے۔ بہرحال، برتری کا احساس کرنے کے لیے بہت سے پہلو ہیں۔ کوئی اپنے بینک بیلنس، فیکٹریوں، گاڑیوں یا آسمان کو چھوتی عمارتوں کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ غرض، احساسِ برتری میں مبتلا شخص اپنے آپ کو ہر معاملے میں تیس مار خان سمجھنے لگتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ یہ اپنی مسکین سی صورت کی وجہ سے ہر حیثیت سے اپنے آپ کو کمتر و کمزور سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ مجلس یا کسی محفل میں جانے سے گھبراتے ہیں۔ کسی بھی معاملے میں رائے نہیں دے سکتے۔ دوسروں کو آگے بڑھتا دیکھ کر، اپنے اندر یہ صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے، ان کے دل میں حسد کا مادہ پیدا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دل ہی دل میں دوسروں کو دیکھ کر حسد کی آگ میں جلتے رہتے ہیں۔ اکثر ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ایک شخص تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی اس مرتبے یا منصب پر نہیں پہنچ سکتا جس کا وہ حقدار یا اہل ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں بھی اس کے ذہن میں احساسِ کمتری اور احساسِ برتری کی کشمکش رہتی ہے اور یہ احساس اسے چڑچڑا بنا دیتا ہے۔
غرض، ایک متوازن انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ احساسِ کمتری کا شکار ہو، نہ احساسِ برتری میں مبتلا ہو، بلکہ ان دونوں محرکات کے درمیان ایک صحت مند طرزِ عمل اپنائے۔ اس طرح ہر فرد اطمینان کی زندگی بسر کر سکتا ہے۔










