editorial

دین کا رشتہ

رسولِ اکرمؐ اپنے ساتھ خون کے رشتے سے بڑھ کر ایک اور رشتہ لائے، اور وہ دین کا رشتہ تھا، جس نے ان لوگوں کو بھی بھائی بھائی بنا دیا جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ دینِ اسلام ہی سے ہمارے تعلق میں استحکام، ہماری صفوں میں اتحاد اور ہمارے معاشرے میں اخوت کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ مسلمان جب اپنے اس حقیقی مرکز، یعنی اسلام، سے دور ہو جائیں گے تو یہ بے مثال اخوت بھی باقی نہیں رہے گی۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ اس بیش قیمت رشتے کے قیام کے بعد مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کریں اور باہم جھگڑا نہ کریں، کیونکہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کے حوصلے پست ہو جائیں گے۔
ہمیں سمجھنا چاہیے کہ باہمی اتحاد و اتفاق ہی ملتِ اسلامیہ کا ستون ہے اور اس کی بقا کا راز دینِ اسلام سے مضبوط تعلق میں مضمر ہے۔ اس کے برعکس، کون نہیں جانتا کہ آج مسلمان انتشار اور بحران کے نازک دور سے گزر رہے ہیں، کیونکہ ان کے ایمان کی کمزوری کے ساتھ ساتھ ان کی صفوں میں بھی تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔ سود و زیاں کے پیمانے بدل چکے ہیں، اور اب مسلمان ہی دوسرے مسلمان کا حریف بن چکا ہے۔ وہ اپنے نفع و نقصان کو ایک نہیں سمجھتے۔
اس دردناک صورتِ حال پر غور کرنے اور ان حقائق کا احاطہ کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ آخر اس دنیا میں انسانیت اور شرافت کا قحط کیوں پڑ گیا ہے؟ اس بارے میں صدقِ دل سے سوچنے اور سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔