editorial

اندازِ سُخن

کیا آپ نے کبھی اپنے اردگرد ہونے والی گفتگوؤں اور لوگوں کے اندازِ سخن کا جائزہ لیا ہے؟ یا پھر اپنی گفتگو پر غور کیا ہے تاکہ اندازہ ہو سکے کہ آپ کا اور دوسروں کا طرزِ گفتگو کتنا مؤثر، مقصدی اور جامع ہے؟ درحقیقت ہم میں سے بہت سے لوگ اس بات پر توجہ ہی نہیں دیتے کہ گفتگو میں غیر ضروری باتوں سے اجتناب اور اہم نکات پر توجہ دینا کتنا ضروری ہے۔
اپنا مدعا مختصر مگر مؤثر انداز میں بیان کرنے والے لوگ عموماً زیادہ کامیاب ہوتے ہیں، کیونکہ وہ کم وقت میں اپنی بات دوسروں تک پہنچانے اور سننے والوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ بات کو بلاوجہ طول دیتے ہیں اور فضول یا بے مقصد گفتگو کے عادی ہوتے ہیں، وہ نہ صرف اپنا بلکہ دوسروں کا وقت بھی ضائع کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ضرورت سے زیادہ بولنے والا شخص محض باتونی ہی نہیں بلکہ بعض اوقات غیر سنجیدہ بھی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس کی بے مقصد گفتگو دوسروں پر مثبت اثر نہیں چھوڑتی۔ ایسے افراد زندگی کے مختلف میدانوں میں اکثر مشکلات اور ناکامیوں کا سامنا کرتے ہیں۔
الغرض، یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ مؤثر اندازِ گفتگو بھی ایک فن ہے، اور یہ فن صحیح علم، عمدہ تعلیم، ادب اور تہذیب کے ذریعے پروان چڑھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد علم و تہذیب کے تقاضوں کو اپنانے کی کوشش کرے تاکہ اس کی گفتگو دوسروں کے لیے دلچسپی، رہنمائی اور اثر پذیری کا باعث بن سکے۔