editorial

خود کی پہچان

ایک مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ سب سے بڑا علم خود شناسی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ جو لوگ خود کو حقیر اور نااہل سمجھتے تھے، جیسے ہی انہوں نے اپنی عظمت کو پہچانا، وہ نیچے سے اوپر اٹھ گئے اور سماج کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اس کے دوست اور معاون بن گئے۔ یہ تحریر اگر ان لاکھوں سوئے ہوئے انسانوں کو جگا سکے جو خود کو حقیر سمجھ کر زندگی گزار رہے ہیں، تو انسانیت کا کتنا بڑا بھلا ہوگا۔ دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جو ساری زندگی کسی ایسے کرشمے کے لاحاصل انتظار میں گزار دیتے ہیں جو جادو کی چھڑی کی طرح انہیں بلندیوں تک پہنچا دے اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدل دے۔
اگر آپ بھی کسی ایسے ہی کرشمے کے انتظار میں ہیں تو یاد رکھیے کہ یہ انتظار، انتظار ہی رہ جائے گا۔ کیونکہ دنیا میں اگر آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی قوتِ بازو اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنا ہوگا۔ زندگی میں کامران ہونے کے لیے خود کو جاننے اور پہچاننے کی کوشش کیجیے، پھر دیکھیے کہ زندگی سے خود بخود محبت ہونے لگے گی اور ترقی کے دروازے آپ پر ہر قدم پر کھلتے چلے جائیں گے۔