6,603 کروڑ روپے کے 288 منصوبوں میں سے 282 مکمل
سرینگر// مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں اسمارٹ سٹیز مشن کے تحت منظور کیے گئے 98 فیصد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں اضافے اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کی تحقیقات شروع کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔راجیہ سبھا میں ایک غیر ستارہ دار سوال کے تحریری جواب میں مرکزی وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ و شہری امور توکھن ساہو نے بتایا کہ جموں اور سری نگر کے لیے اسمارٹ سٹیز مشن کے تحت مجموعی طور پر 288 منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی، جن کی تخمینی لاگت 6,603 کروڑ روپے ہے۔ ان میں سے 282 منصوبے، جن پر 6,472 کروڑ روپے خرچ ہوئے، 31 مارچ 2026 تک مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ صرف چھ منصوبوں پر کام جاری ہے۔وزارت کے مطابق جموں میں منظور شدہ 127 منصوبوں میں سے 125 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں، جن کی مالیت 2,940 کروڑ روپے ہے، جبکہ ان کی منظور شدہ لاگت 2,969 کروڑ روپے تھی۔ اسی طرح سری نگر میں 161 منصوبوں میں سے 157 مکمل ہو چکے ہیں، جن پر 3,532 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جبکہ ان کی منظور شدہ لاگت 3,634 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح دونوں شہروں میں منصوبوں کی مجموعی تکمیل کی شرح 98 فیصد رہی۔حکومت نے مزید بتایا کہ مرکز نے دونوں اسمارٹ شہروں کے لیے 941 کروڑ روپے کی مرکزی مالی امداد جاری کی، جس میں سے 911 کروڑ روپے استعمال کیے جا چکے ہیں۔ جموں نے مرکز سے حاصل کیے گئے 489 کروڑ روپے میں سے 459 کروڑ روپے خرچ کیے، جبکہ سری نگر نے موصول ہونے والے 452 کروڑ روپے مکمل طور پر استعمال کر لیے۔منصوبوں میں تاخیر اور لاگت میں اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں وزارت نے کہا کہ بعض منصوبوں میں سستی کی وجہ مختلف انتظامی اور تکنیکی رکاوٹیں تھیں، جن میں متعلقہ محکموں سے منظوری میں تاخیر، اراضی کے حصول کے مسائل، دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں تعمیراتی کام، ٹھیکیداروں اور وسائل کی کمی اور دیگر عملی مشکلات شامل ہیں۔یو این ایس کے مطابق مرکزی حکومت نے واضح کیا کہ منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، ناقص تعمیراتی معیار، فنڈز کے غلط استعمال یا پروجیکٹ مینجمنٹ میں کوتاہیوں کے الزامات کے سلسلے میں کسی قسم کی انکوائری، آڈٹ یا تفتیش شروع نہیں کی گئی ہے۔وزارت نے بتایا کہ اسمارٹ سٹیز مشن کے تحت منصوبوں کی منصوبہ بندی، عمل درآمد، نگرانی، فنڈز کے انتظام اور جائزے کی ذمہ داری متعلقہ اسپیشل پرپز وہیکل کے سپرد ہے۔پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق جو چھ منصوبے ابھی زیر تکمیل ہیں، ان میں جموں میں باغِ باہو اوشینیریم اور تالابوں و آبی ذخائر کی بحالی کے دو منصوبے شامل ہیں، جبکہ سری نگر میں دریائے جہلم اور ڈل جھیل میں آبی ٹرانسپورٹ سروس، اسکاڈا پر مبنی واٹر مینجمنٹ سسٹم، گونی کھن اور مہاراج بازار میں باقی ماندہ ترقیاتی کام اورسری نگر اسمارٹ سٹی لمیٹڈ کے دفتر کے ساتھ انٹیگریٹڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے سب ہب کی تعمیر پر کام جاری ہے۔










