manoj sinha

جموں و کشمیر نے مکمل خواندگی کا سنگ میل حاصل کر لیا،دسویں مکمل خواندہ ریاست

تعلیم معاشرے کو بااختیار بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ اس مشن کو مزید آگے بڑھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری // منوج سنہا

سرینگر// جموں و کشمیر نے مرکزی حکومت کی معاشرے کے ہر فرد کیلئے تاحیات تعلیم و تعلم کی اسکیم’(اُلاس)اسکیم کے تحت مکمل خواندگی (فل لٹریسی) کا تاریخی سنگ میل حاصل کرتے ہوئے ملک کی دسویں ریاست،مرکز کے زیر انتظام علاقے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ 99.09 فیصد کامیابی کی شرح کے ساتھ جموں و کشمیر اب تک مکمل خواندگی کا درجہ حاصل کرنے والا سب سے زیادہ آبادی والا خطہ بھی بن گیا ہے۔یو این ایس کے مطابق اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے اساتذہ، تعلیمی منتظمین، رضاکاروں، مقامی انتظامیہ اور اس مہم سے وابستہ تمام افراد کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس کامیابی کو جموں و کشمیر کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ مرکزی حکومت کی اْلّاس اسکیم کے تحت مکمل خواندہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی صف میں شامل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 99.09 فیصد کامیابی کے ساتھ جموں و کشمیر نے نہ صرف یہ اعزاز حاصل کیا بلکہ سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا خطہ بھی بن گیا ہے جس نے یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کا سہرا اساتذہ، منتظمین اور ان تمام افراد کو جاتا ہے جنہوں نے اس مہم کو کامیاب بنانے میں انتھک محنت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم معاشرے کو بااختیار بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور اس مشن کو مزید آگے بڑھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اْلّاس اسکیم کے تحت جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 80 ہزار 317 غیر خواندہ افراد کی نشاندہی کی گئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ 78 ہزار 680 افراد نے خواندگی کا امتحان کامیابی سے پاس کیا، جس کے نتیجے میں کامیابی کی شرح 99.09 فیصد ریکارڈ کی گئی۔مرکزی حکومت کے مطابق کسی بھی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے کو مکمل خواندہ قرار دینے کے لیے کم از کم 95 فیصد خواندگی کی شرح حاصل کرنا ضروری ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عمر رسیدگی، جسمانی یا ذہنی معذوری اور دیگر عملی وجوہات کے باعث سو فیصد خواندگی کا حصول ممکن نہیں ہوتا، اسی لیے 95 فیصد یا اس سے زیادہ شرح کو مکمل خواندگی کا معیار مقرر کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اس ہدف کے حصول کے لیے اپنی مقامی ضروریات کے مطابق حکمت عملی تیار کی، خصوصی مہمات چلائیں اور بہترین عملی اقدامات اختیار کیے، جس کے نتیجے میں خواندگی کی شرح میں نمایاں اضافہ ممکن ہوا۔اْلّاس اسکیم کا مقصد صرف بنیادی خواندگی تک محدود نہیں بلکہ بالغ افراد کو بنیادی تعلیم، عددی مہارت، ضروری زندگی کی مہارتوں، مالی و ڈیجیٹل خواندگی اور مسلسل تعلیم کے مواقع فراہم کرنا بھی ہے، تاکہ وہ سماجی اور معاشی سرگرمیوں میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس کامیابی سے قبل لداخ، میزورم، گوا، تریپورہ، ہماچل پردیش، چندی گڑھ، انڈمان و نکوبار جزائر، سکم اور اتراکھنڈ خود کو مکمل خواندہ قرار دے چکے ہیں۔ جموں و کشمیر اب اس فہرست میں شامل ہونے والا دسواں ریاست/مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہے اور ان تمام میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا خطہ بھی ہے۔تعلیمی ماہرین کا ماننا ہے کہ مکمل خواندگی کا یہ سنگ میل نہ صرف تعلیمی شعبے میں ایک اہم کامیابی ہے بلکہ یہ جموں و کشمیر میں انسانی وسائل کی ترقی، سماجی شمولیت، روزگار کے بہتر مواقع اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی جانب بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔