یو پی ایس سی کا نئی دہلی میں اعلیٰ سطحی اجلاس، 8 افسران کی ترقی کی منظوری متوقع
سرینگر// یونین پبلک سروس کمیشن (یو پی ایس سی) نے نئی دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں جموں و کشمیر پولیس سروس (جے کے پی ایس) کے آٹھ افسران کو انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) میں ترقی دے کر شامل کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس تجویز کو منظوری دیے جانے کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی فیصلہ اجلاس کی کارروائی (منٹس) جاری ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت یو پی ایس سی کے ایک رکن نے کی، جبکہ چیف سیکرٹری اٹل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نلین پربھات، پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی، وزارت داخلہ اور یو پی ایس سی کے دیگر سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی ایجنڈا جموں و کشمیر پولیس سروس کے آٹھ اہل افسران کو آئی پی ایس میں انڈکٹ کرنے سے متعلق تھا، کیونکہ اس وقت اتنی ہی آسامیاں دستیاب ہیں۔یو این ایس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ ان افسران میں سے بعض کو حال ہی میں جموں و کشمیر پولیس سروس کے نئے قواعد کے تحت کمشنر یا ڈائریکٹر کے عہدوں پر تعینات کیا جا چکا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق کمشنر کا عہدہ انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) جبکہ ڈائریکٹر کا عہدہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) کے مساوی تصور کیا جاتا ہے۔ ایک اہل سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو بھی آئی پی ایس انڈکشن اجلاس سے چند روز قبل ترقی دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر انڈکشن کے لیے منتخب کسی افسر نے آئی پی ایس میں شامل ہونے سے انکار کیا تو متعلقہ آسامی خالی تصور کی جائے گی اور آئندہ سال دستیاب نئی آسامیوں کے ساتھ دوبارہ شامل کی جائے گی۔سرکاری ریکارڈ کے مطابق آئی پی ایس میں ترقی کے لیے 2021 سے 2024 تک مجموعی طور پر آٹھ آسامیاں مقرر کی گئی ہیں۔ ان میں پانچ آسامیاں سلیکٹ لسٹ 2021، دو سلیکٹ لسٹ 2023 اور ایک سلیکٹ لسٹ 2024 سے متعلق ہیں، جبکہ سال 2022 کے لیے کوئی آسامی مقرر نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ 2015، 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2020 کی پانچ غیر پْر شدہ آسامیوں کو منتقل کرکے 2021 کی فہرست میں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی پی ایس میں شامل ہونے والے جے کے پی ایس افسران کو دستیاب آسامیوں کے مطابق 2015 اور اس کے بعد کے بیچ الاٹ کیے جائیں گے، جس سے ان کی سینیارٹی اور آئندہ ترقیوں کا تعین ہوگا۔یو این ایس کے مطابق گزشتہ تقریباً ساڑھے تین برسوں کے دوران جموں و کشمیر پولیس سروس کے قریب 44 افسران کو آئی پی ایس میں شامل کیا جا چکا ہے۔ تاہم اس سے قبل 2011 سے 2021 تک تقریباً ایک دہائی تک قانونی پیچیدگیوں اور دیگر انتظامی وجوہات کے باعث انڈکشن کا عمل مکمل طور پر رکا رہا۔ اس تعطل کے نتیجے میں متعدد جے کے پی ایس افسران طویل عرصے تک سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کے عہدے پر خدمات انجام دیتے رہے اور آئی پی ایس میں شمولیت نہ ہونے کے باعث کئی افسران اسی عہدے سے ریٹائر بھی ہوئے۔ذرائع کے مطابق موجودہ انڈکشن عمل سے نہ صرف طویل عرصے سے ترقی کے منتظر افسران کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے بلکہ جموں و کشمیر پولیس میں اعلیٰ قیادت کے ڈھانچے کو بھی مزید مضبوطی ملے گی۔ اجلاس کی باضابطہ کارروائی جاری ہونے کے بعد انڈکشن سے متعلق حتمی فہرست اور دیگر تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔










