نفسیات کا علم صرف ہماری ذاتی شخصیت ہی کو بنانے سنوارنے کے گُر نہیں بتاتا بلکہ وہ ہمیں بصیرت بھی بخشتا ہے کہ ہم اپنے اردگرد کی فضا کو سمجھ سکیں، پرکھ سکیں اور اسے بہتر بنا سکیں۔ اب دیکھیے کہ خاندان میں کیا صورتِ حال ہے؟ ہمارے تعلقات اور رشتوں میں دراڑیں کیوں پڑ جاتی ہیں؟ گزرے زمانے میں لوگ ایک ہی چھت تلے رہنا پسند کرتے تھے۔ پورا کنبہ ایک ساتھ رہتا تھا اور آپس میں محبت اور اپنائیت کی فضا طاری رہتی تھی، مگر آج یہ حال ہے کہ اپنائیت کے بجائے اجنبیت ہماری زندگیوں میں در آئی ہے۔ خاندانی نظام کا شیرازہ بکھرا ہوا ہے۔ عالم یہ ہے کہ ایک ایک خاندان کے بچے اپنے بہت سے قریبی عزیزوں کے ناموں سے بھی واقف نہیں ہیں۔ یہ روش کیسی ہے جو ہمیں اپنے خونی رشتوں کو فراموش کرنے پر مجبور کرتی ہے؟ رشتے اور ناتے غیر اہم ہو کر رہ گئے ہیں۔ کیا اس وطیرے کو قابلِ تعریف کہا جا سکتا ہے؟
اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ ہماری انا اور ہماری توقعات ایک دوسرے سے دوری کا باعث ہیں تو ہمیں اس انا کے خول سے باہر آنا ہوگا۔ حسد کو نظرانداز کر کے ہمیں رشتوں کو مضبوط کرنا ہوگا۔ حقیقی خوشی آدمی کو کبھی تنہا میسر نہیں ہوگی جب تک سماج سے رشتہ نہ رکھا جائے۔ اپنی زندگی میں سکون اور اطمینان اگر چاہتے ہیں تو باہم میل جول ضروری ہے۔ جہاں بھی خوش حال خاندان نظر آئے، وہاں جا کر دیکھیں کہ وہاں کے لوگوں میں نہ نفرت ملے گی، نہ حسد، نہ غیر ضروری بد اخلاقی اور نہ ہی غلط فہمیاں۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہم اپنے اختلافات کو بھلا دیں اور ایک نئی سوچ کے ساتھ رشتوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ دوریوں کو نزدیکیوں میں بدل دینا صرف ہمارے بس میں ہے۔ اس لیے پہل کر کے تو دیکھیں۔










