لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ، 220 دوائیں طے شدہ معیار پر ناکام، دہلی میں ایک دوا کا سیمپل نکلا نقلی

لوگوں کی زندگی سے کھلواڑ، 220 دوائیں طے شدہ معیار پر ناکام، دہلی میں ایک دوا کا سیمپل نکلا نقلی

’سینٹرل ڈرگس اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن‘ (سی ڈی ایس سی او) کی معمول کی نگرانی کے دوران اگست 2026 میں 220 دواؤں کے سیمپل طے شدہ معیار پر پورے نہیں اترے۔ راجدھانی دہلی میں بھی دوا کا ایک سیمپل نقلی نکل گیا ہے۔ سی ڈی ایس سی او کے مطابق ان 221 سیمپلز کو ’ناٹ اسٹینڈرڈ کوالٹی‘ (این ایس کیو) قرار دیا گیا۔ سینٹرل ڈرگس لیباریٹریز میں 29 اور ریاستی ڈرگس ٹیسٹنگ لیباریٹریز میں 191 سیمپلز معیار پر ناکام قرار دیے گئے ہیں۔
این ایس کیو کا مطلب ہے کہ ٹیسٹ کیے گئے متعلقہ بیچ کا سیمپل طے شدہ معیار پر کھرا نہیں اترا۔ راجدھانی دہلی سے ملے نقلی دوا کے سیمپل میں ’ان آتھرائزڈ مینیوفیکچررز‘ نے کسی دوسری کمپنی کے برانڈ کے نام کا استعمال کیا تھا۔ سی ڈی ایس سی او کے مطابق نقلی دوا کا معاملہ جانچ کے دائرے میں ہے اور قانون اور اصول و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ’سی ڈی ایس سی او‘ اور ’اسٹیٹ ڈرگ ریگولیٹرس‘ مشترکہ طور پر ایسی دواؤں کی شناخت کرکے بازار سے ہٹانے کی کارروائی کرتی ہیں۔
’سی ڈی ایس سی او‘ نے بتایا کہ یہ صرف سرکاری لیب میں جانچ کیے گئے اس خاص بیچ کے لیے ہے۔ بازار میں فروخت ہو رہی دیگر دواؤں کے حوالے سے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ جانچ ریاستی شعبۂ ادویات کے ساتھ مل کر کی جاتی ہے، تاکہ نقلی اور خراب دواؤں کو بازار سے ہٹایا جا سکے۔ اگست 2026 میں مرکزی ادویات لیب نے 29 سیمپل اور ریاست ادویات لیبس نے 191 سیمپل کو این ایس کیو قرار دیا۔ سی ڈی ایس سی او کا کہنا ہے کہ نقلی اور خراب دواؤں کی شناخت اس کے باقاعدہ کام کا حصہ ہے۔ مقصد یہی ہے کہ اس قسم کی دوائیں بازار میں فروخت نہ ہوں۔ دہلی میں ملنے والی نقلی دوا کے معاملے کی جانچ چل رہی ہے، قانون کے مطابق آگے کی کارروائی کی جائے گی۔