اگست میں گھریلو کھانے کی لاگت میں معمولی اضافہ

اگست میں گھریلو کھانے کی لاگت میں معمولی اضافہ

سبزی تھالی 29.50 روپے اور گوشت والی تھالی57.50روپے تک پہنچی

سرینگر//ٹی ای این / گھروں میں تیار کیے جانے والے کھانے کی لاگت میں اگست کے دوران معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ملکی درجہ بندی ایجنسی کرِسل کے تحقیقی شعبے کرِسل انٹیلی جنس کی ماہانہ رپورٹ ’روٹی رائس ریٹ‘ کے مطابق اگست میں سبزی والی تھالی کی قیمت سالانہ اور ماہانہ دونوں بنیادوں پر ایک فیصد بڑھ کر 29.50 روپے تک پہنچ گئی۔رپورٹ کے مطابق گوشت والی تھالی کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 5 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 57.50 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ جولائی میں اس کی قیمت 58.30 روپے تھی۔ اس طرح ماہانہ بنیادوں پر گوشت والی تھالی کی قیمت میں ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیاز، خوردنی تیل، چاول اور ایل پی جی کی بلند قیمتوں نے گزشتہ سال کے مقابلے میں گھریلو کھانے کی لاگت کو زیادہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، اگرچہ آلو اور ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی نے مجموعی اضافے کو محدود کرنے میں مدد دی۔کرِسل انٹیلی جنس کے مطابق اگست 2026 میں پیاز کی قیمت گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 43 فیصد بڑھ کر 40 روپے فی کلوگرام ہوگئی، جبکہ اگست 2025 میں اس کی قیمت 28 روپے فی کلوگرام تھی۔ رپورٹ کے مطابق مہاراشٹرا میں مارچ اور اپریل کے دوران بے موسم بارشوں اورژالہ باری کے باعث سپلائی متاثر ہونے سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگست کے دوران خوردنی تیل کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 11 فیصد جبکہ ایل پی جی کی قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہوا۔دوسری جانب آلو اور ٹماٹر کی قیمتوں میں نمایاں کمی نے کھانے کی مجموعی لاگت میں مزید اضافے کو روکنے میں مدد کی۔ آلو کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 12 فیصد جبکہ ٹماٹر کی قیمت میں 28 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ماہانہ بنیادوں پر پیاز کی قیمت میں 17 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، تاہم ٹماٹر کی قیمت میں 7 فیصد کمی نے اس اضافے کے اثرات کو کسی حد تک کم کردیا۔کرِسل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر پوشن شرما نے کہا کہ آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران پیاز کی قیمتیں بلند رہنے کا امکان ہے، کیونکہ ربیع فصل کی سپلائی محدود ہے جبکہ خریف فصل کی آمد میں تاخیر ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق گوشت والی تھالی کی قیمت میں ماہانہ کمی کی ایک اہم وجہ شراون کا مہینہ بھی رہا، جسے ہندو مذہب میں مقدس سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران مرغی کے گوشت کی مانگ میں کمی کے باعث برائلر مرغی کی قیمت تقریباً 4 فیصد کم ہوئی، جس کے نتیجے میں گوشت والی تھالی کی ماہانہ لاگت میں ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔