manoj sinha

دفعہ 370 کی منسوخی سے وزیر اعظم مودی نے جموں و کشمیر کی تقدیر بدل دی

خطے میں ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی راہیں کھل گئی :منوج سنہا

سرینگر / این این بی // جموں و کشمیر میں ترقی کی کہانی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہے کی بات کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہانے کہا کہ دفعہ 370 کی منسوخی نے جموں و کشمیر کی تقدیر بدل دی اور ترقی کے محاذ پر گزشتہ چھ برس غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر خوف کے سائے سے مواقع کی روشنی، تنہائی سے انضمام اور مایوسی سے امید و مستقبل کی جانب بڑھا ہے۔ نیشنل نیوز بیورو( این این بی ) کے مطابق لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں دفعہ 370 کی منسوخی نے جموں و کشمیر کی تقدیر بدل دی ہے اور گزشتہ چھ برس کے دوران خطے میں ترقی کے میدان میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔امریکا کے شہر شکاگو، الینوائے میں منعقدہ آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) گلوبل ایلومنائی میٹ سے خطاب کرتے جموں کشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انجینئرنگ تعلیم کے فروغ اور ہندوستان کی صنعتی ترقی میں ان کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔منوج سنہا نے کہا کہ مالویہ کے نظریات اور ویژن آج بھی نئی نسلوں کو ٹیکنالوجی کے فروغ، معیشت کو مضبوط بنانے اور معاشرے کی خدمت کے لیے تحریک فراہم کر رہے ہیں۔اپنے خطاب کے دوران سنہا نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی صلاحیت اور مشینی ذہانت کے امتزاج سے مصنوعی ذہانت مستقبل میں معاشی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ اے آئی کی ترقی اخلاقیات، بنیادی انسانی اقدار اور سخت انسانی نگرانی کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین انسانیت کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا ضروری ہے تاکہ اس کے فوائد معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ سکیں۔لیفٹنٹ گورنر نے کہا کہ ایک نئے ہندوستان کا ظہور ہورہا ہے جو اندرونی طور پر مضبوط، بیرونی دنیا میں پراعتماد اور انسانیت کے مستقبل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان عالمی سطح پر اپنا مقام مضبوط کر رہا ہے اور مستقبل میں قیادت کے لیے خود کو تیار کررہا ہے۔ ان کے بقول ہندوستان تیزی سے تکنیکی قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے جبکہ سماجی بہبود کے اقدامات بھی جاری ہیں۔جموں و کشمیر میں گزشتہ برسوں کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ خطے کی ترقی کی کہانی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آئی ہے۔انہوں نے کہا ’’دفعہ 370 کی منسوخی نے جموں و کشمیر کی تقدیر بدل دی اور ترقی کے محاذ پر گزشتہ چھ برس غیر معمولی اہمیت کے حامل رہے ہیں‘‘۔سنہا کے مطابق جموں و کشمیر خوف کے سائے سے مواقع کی روشنی، تنہائی سے انضمام اور مایوسی سے امید و مستقبل کی جانب بڑھا ہے۔ ان کے بقول اس تبدیلی نے خطے میں ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی راہیں کھولی ہیں۔منوج سنہا نے شکاگو میں سوامی وویکانند کی 11 ستمبر 1893 کی تاریخی تقریر کا بھی حوالہ دیا اور عالمی معاشرے کی ترقی میں آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) کے عالمی سابق طلبہ اور بھارتی تارکین وطن کے کردار کو سراہا۔انہوں نے آئی آئی ٹی (بی ایچ یو) کے عالمی سابق طلبہ پر زور دیا کہ وہ ہندوستان کی معاشی اور تہذیبی ترقی کے عمل میں فعال کردار ادا کریں۔