جاوید رانا نے کنڈ علاقوں میں پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی پر زو ردیا

جاوید رانا نے کنڈ علاقوں میں پانی کی قلت سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی پر زو ردیا

جموں//وزیر برائے جل شکتی ، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی اَمور محکمہ جات جاوید احمد رانا نے کنڈی علاقوں میں بڑھتی ہوئی پانی کی قلت سے نمٹنے کے لئے ایک جامع اور نتیجہ خیز حکمت عملی اَپنانے کی ضرورت پر زور یتے ہوئے کہاکہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے مربوط اور طویل مدتی اَقدامات ناگزیر ہیں۔اِن باتوں کا اظہار وزیر موصوف نے گوجر دیش چیئر ٹیبل ٹرسٹ (جی ڈِی سی ٹی) میں عوامی وفود سے ملاقات کے دوران کیا جہاں جموں کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اَپنے مسائل پیش کئے جس میں پانی کی فراہمی سب سے اہم مسئلہ کے طور پر سامنے آیا۔اُنہوں نے دیرپا حل پر زور دیتے ہوئے کنڈی بیلٹ میں واٹر ہارویسٹنگ ٹینک قائم کرنے کی اہمیت اُجاگر کی تاکہ بارش کے پانی کو محفوظ کیا جا سکے جو بصورتِ دیگر ضائع ہو جاتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کا بنیادی ڈھانچہ خشک موسم کے دوران پانی کے مقامی ذرائع کے طور پر کام کر سکتا ہے اور دُور دراز سپلائی لائنوں پر انحصار کم کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے ان علاقوں میں پانی کے تحفظ اور زیر زمین پانی کے محدود ذخائر کے حوالے سے عوامی بیداری مہمات کو تیز کرنے پر بھی زور دیا۔وزیر جاوید رانانے پانی کے تحفظ اور اِنتظام کو یقینی بنانے کے لئے جل شکتی، دیہی ترقی، جنگلات اور دیگر متعلقہ محکموں کے درمیان کوششوں کے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ کمیونٹیوں میں رویوں کی تبدیلی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ بنیاد ی ڈھانچے کی اور گھریلو اِستعمال، زراعت اور مویشی پالنے میں پانی کے صحیح استعمال کی ترغیب دِی تاکہ پہلے سے دباؤ کا شکار وسائل مزید متاثر نہ ہوں۔اُنہوںنے فیلڈ اَفسران کو ہدایت دی کہ وہ زمینی سطح پر نگرانی کو مضبوط بنائیں تاکہ پانی کی سپلائی کے نظام میں لیکیجز کی نشاندہی کر کے انہیں روکا جا سکے کیوں کہ اس طرح کے نقصانات سے صارفین اپنے جائز حصے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اُنہوں نے پائپ لائنوں، ذخیرہ ٹینکوں اور ڈِسٹری بیوشن پوائنٹس کا باقاعدہ معائینہ کرنے کی ہدایت دی تاکہ دستیاب وسائل کے زیادہ سے زیادہ اِستعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر موصوف نے بٹھنڈی جیسے پانی کی قلت والے علاقوں میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لئے حکام کو متبادل دن کی پانی کی فراہمی کو لاگو کرنے کی ہدایت دی اورمانیٹرنگ رپورٹوں کے معیار اور باقاعدگی کے لئے فیلڈ افسران کو جوابدہ ٹھہرایا۔اِس سے قبل بٹھنڈی کے ایک وفد نے پانی کی بے قاعدگی کا مسئلہ اُٹھایا اور ساگری محلہ میں بورویل کی کھدائی کا مطالبہ کیا۔ چوہڑی کے ایک اور وفد نے پانی کی قلت اور سڑکوں کی خراب حالت کو اُجاگر کیا۔ سانبہ، اَکھنور اور جموں صوبہ کے دیگر علاقوں سے آئے وفود نے بھی اَپنی شکایات پیش کیں اور جلد از جلد اَزالے کا مطالبہ کیا۔اَفسران نے وزیر کو بتایا کہ بٹھندی اور ملحقہ علاقوں میں چھ بورویلوں پر کام جاری ہے جو تکمیل کے قریب ہیں جس سے پانی کی قلت میں نمایاں کمی آئے گی اور قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنے گی۔وزیر جاویدرانا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مربوط منصوبہ بندی، عوامی شمولیت اور وسائل کا مؤثر اِنتظام کنڈی علاقوں میں پانی کی قلت کے دیرپا حل کے تین بنیادی ستون ہیں۔بعد میں وزیر نے جی ڈِی سی ٹی میں قبائلی میوزیم کے قیام کے حوالے سے افسران اور ٹرسٹیوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ مجوزہ میوزیم کا مقصد جموں و کشمیر کی قبائلی کمیونٹیوں کی ثقافت، روایات اور تاریخ کو محفوظ اور نمایاں کرنا ہے۔میٹنگ میں چیف اِنجینئر آئی اینڈ ایف سی جموں منوج گپتا، چیف کنزرویٹر آف فارسٹ جموں ڈاکٹر وِی ایس سینتھل کمار، ڈائریکٹر قبائلی امور محمد ممتاز علی، چیف اِنجینئر پی ایچ اِی محمد حنیف، ڈائریکٹر ٹرائبل ریسرچ اِنسٹی چیوٹ ڈاکٹر عبد الخبیر اور دیگر اَفسران نے شرکت کی۔ جی ڈی سی ٹی کے ٹرسٹیز بشمول پیٹرن اِن چیف عبد الحمید چودھری، چیئرمین ارشد علی چودھری، شوکت چودھری اور جنرل سیکرٹری اِنجینئر ایم صادق آزاد بھی میٹنگ میں موجود تھے۔