train

30 اپریل،جموں سے سری نگر براہِ راست ٹرین سروس کا تاریخی آغاز

سرینگر// یو این ایس//جموں و کشمیر میں جدید ریل رابطے کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ 30 اپریل 2026 کو جموں اور سری نگر کے درمیان براہِ راست ٹرین سروس کا باضابطہ آغاز ہوگا، جسے خطے کی ترقی، سیاحت اور عوامی سہولت کے حوالے سے ایک سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ مرکزی وزیر ریلویز اشونی ویشنو اس سروس کا افتتاح کریں گے جبکہ وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر ڈاکٹر جتیندر سنگھ بھی اس اہم موقع پر موجود ہوں گے۔یو این ایس کے مطابق سرکاری ذرائع کے مطابق اس منصوبے کی تمام تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں۔ ٹریکس کی جانچ، ٹرینوں کے ٹرائل رنز اور حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل کوششیں جاری تھیں، اور اب یہ خواب حقیقت میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔فی الوقت وندے بھارت ایکسپریس کی دو ٹرینیں سری نگر اور شری ماتا ویشنو دیوی کٹرہ کے درمیان چل رہی ہیں۔ اب ان ٹرینوں کو جموں ریلوے اسٹیشن تک توسیع دی جا رہی ہے، جس کے بعد مسافر براہِ راست جموں سے وادی کشمیر کا سفر کر سکیں گے۔ ریلوے حکام کے مطابق ان ٹرینوں کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی جائے گی، جس کا باضابطہ اعلان جلد متوقع ہے۔یہ پیش رفت نہ صرف دونوں دارالحکومتوں—جموں اور سری نگر—کے درمیان فاصلے کو کم کرے گی بلکہ عوام کے لیے سفر کو زیادہ آسان، تیز اور آرام دہ بنائے گی۔ خاص طور پر سرکاری ملازمین، طلبہ، تاجروں اور سیاحوں کے لیے یہ سروس انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگی۔یہ ٹرین سروس ایسے وقت شروع کی جا رہی ہے جب جموں و کشمیر کا سول سیکریٹریٹ روایتی طور پر جموں سے سری نگر منتقل ہونے والا ہے۔ 30 اپریل کو پانچ روزہ ورک کلچر والے دفاتر بند ہو جائیں گے جبکہ چھ روزہ دفاتر 2 مئی کو بند ہوں گے، اور 4 مئی سے سری نگر میں کام کا آغاز ہوگا۔ اس تناظر میں یہ ٹرین سروس سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑی سہولت فراہم کرے گی، جو ہر سال اس منتقلی کے دوران مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔سیاحت کے حوالے سے بھی اس سروس کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر شری امرناتھ جی یاترا، جو 3 جولائی سے شروع ہو رہی ہے، کے دوران لاکھوں یاتری جموں پہنچتے ہیں۔ نئی ریل سروس کے ذریعے یہ یاتری آسانی سے سری نگر تک پہنچ سکیں گے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ سڑکوں پر دباؤ بھی کم ہوگا۔تاہم حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ٹرین کی محدود گنجائش کے باعث تمام مسافروں کو اس میں جگہ فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا، اس لیے جموں-سری نگر قومی شاہراہ بدستور اہم ذریعہ? آمدورفت بنی رہے گی۔ البتہ خراب موسمی حالات، برفباری یا لینڈ سلائیڈنگ کے دوران جب شاہراہ بند ہو جاتی ہے، اس صورت میں یہ ریل سروس ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر سامنے آئے گی۔یہ منصوبہ دراصل ادھم پور،سری نگر،بارہمولہ ریل لنک کا حصہ ہے، جسے ملک کے سب سے مشکل اور پیچیدہ ریلوے منصوبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 6 جون 2025 کو کٹرہ اور سری نگر کے درمیان پہلی وندے بھارت ٹرین کا افتتاح کیا تھا، جس کے بعد اب اس سروس کو مزید وسعت دی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں آٹھ بوگیوں پر مشتمل ٹرین چل رہی تھی، تاہم اب اسے 20 بوگیوں تک بڑھانے کی منصوبہ بندی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ جموں ریلوے ڈویڑن، جو 2025 میں قائم کیا گیا تھا، اب خطے میں مال برداری اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ دے رہا ہے، جس سے مقامی معیشت کو تقویت مل رہی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ سروس نہ صرف سفری سہولت فراہم کرے گی بلکہ اس سے خطے کی اقتصادی سرگرمیوں، سیاحت، روزگار کے مواقع اور علاقائی ہم آہنگی کو بھی فروغ ملے گا۔ جموں و کشمیر، جو طویل عرصے سے بہتر رابطہ کاری کا منتظر تھا، اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ریل رابطہ اس کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کرے گا۔