تہران/ یو این آئی// میڈیا میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران ایران نے جوہری ہتھیار کے بجائے آبنائے ہرمز کو اپنا سب سے طاقت ور اسٹریٹیجک ہتھیار بنا لیا ہے جو عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران اصل بحران آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے پیدا ہوا جو دنیا کی 20 سے 25 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔اس آبنائے کے ذریعے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی ممالک کا خام تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے اس راستے میں رکاوٹ یا پابندی نے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافہ کیا، برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالرز فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئی جبکہ شپنگ اور انشورنس کے اخراجات بھی بڑھ گئے۔بھارتی میڈیا کے مطابق معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتِ حال سے عالمی معیشت کو 330 ارب سے 2.2 کھرب ڈالر تک نقصان ہو سکتا ہے۔رپورٹ میں عالمی مجموعی گھریلو پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 2.9 فیصد کمی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے سمندری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر دباؤ ڈال کر اور محدود کارروائیوں کے ذریعے اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے جس سے عالمی توانائی مارکیٹ متاثر ہوئی اور سپلائی چین میں خلل پیدا ہوا۔
امریکہ نے ایران پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے جبکہ یورپی ممالک اور دیگر عالمی اداروں نے بھی اس اہم سمندری راستے کو کھلا رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ یہ علاقہ اس کی خودمختاری میں آتا ہے اور وہ اپنے قانونی حق سے دستبردار نہیں ہو گا۔اسی صورتِ حال کے تناظر میں پاکستان میں فریقین کے درمیان مزید مذاکرات بھی جاری ہیں جبکہ عالمی برادری بھی جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کی کوشش کر رہی ہے۔(S/W)










