امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر جاری سسپنس بالآخر ختم ہو چکا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار (14 جون) کو امن معاہدے کا اعلان کیا۔ جمعہ کو امریکہ اور ایران کے درمیان باقاعدہ طور پر اس معاہدے پر دستخط ہوں گے، جس میں امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اسپیکر محمد باقر غالیباف شامل ہوں گے۔ اس معاہدے کی شرائط کی تفصیلات بھی سامنے آ گئی ہیں۔ ایران کی ’مہر نیوز ایجنسی‘ نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی ایم او یو کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ اس میں 60 دنوں کے مذاکرات کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
جنگ کو فوری طور پر اور ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے گا، جس میں لبنان کا محاذ بھی شامل ہوگا۔
امریکہ، ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔
امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
امریکی افواج ایران کے ارد گرد کے علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی۔
ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے گی اور ایران کو اپنی تیل کی آمدنی کی رقم دوبارہ حاصل ہو سکے گی۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر تک کی امداد فراہم کریں گے۔
اگلے 60 دنوں تک دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے، جن میں جوہری پروگرام اور پابندیوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت یہ وعدہ کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
مذاکرات کے دوران امریکہ کی جانب سے کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
مذاکرات کے دوران امریکہ ایران کے خلاف کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔
ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے مرحلہ وار طریقے سے واپس کیے جائیں گے۔
معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ نظام یا طریقہ کار بنایا جائے گا۔
حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) سے منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
ایران کا میزائل پروگرام اور اس کی حمایت یافتہ پراکسی تنظیموں کے معاملات ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ ایران کی ’مہر نیوز ایجنسی‘ کی جانب سے سامنے آنے والی معاہدے کی ان شرائط کی تصدیق اب تک ایران یا امریکہ کی طرف سے نہیں کی گئی ہے۔ فریقین کے باضابطہ مذاکرات کی طرف بڑھنے کے ساتھ ہی ان میں تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار (15 جون) کو امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹرتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’یہ عظیم معاہدہ پورے خطے میں امن اور سلامتی لائے گا۔ معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل جائے گا۔ اس سے خطے اور دنیا کے لیے دونوں طرف سے تیل کی سپلائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق ایران نے اس امن معاہدے کو مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا نام دیا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’’ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر فتح حاصل کر لی ہے۔ تہران کے عوام کی حمایت اور فوج کی انتھک کوششوں کے باعث کئی مہینوں کے کٹھن اور طویل مذاکرات کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ اس امن معاہدے پر جمعہ (19 جون) کو جنیوا میں دستخط ہوں گے۔ ایران کی طرف سے محمد باقر غالیباف اور عباس عراقچی جبکہ امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس اس میں شریک ہوں گے۔ معاہدے کے تحت، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم ہو جائیں گی۔ اس کے علاوہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی فوری اور مکمل طور پر ہٹا لی جائے گی۔










