’اب تو اس تالاب کا پانی بدل دو، یہ کمل کے پھول کمہلانے لگے ہیں‘، اتراکھنڈ کی عوام سے کھڑگے کی اپیل

’اب تو اس تالاب کا پانی بدل دو، یہ کمل کے پھول کمہلانے لگے ہیں‘، اتراکھنڈ کی عوام سے کھڑگے کی اپیل

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور بی جے پی-آر ایس ایس پر زوردار حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں کام کیا ہے، جمہوریت اور آئین کی حفاظت کی ہے، جبکہ بی جے پی-آر ایس ایس نے ملک کی آزادی اور آزادی کی جدوجہد کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ اس کے باوجود یہی لوگ کانگریس کو حب الوطنی کا سبق سکھاتے ہیں۔
ملکارجن کھڑگے نے 8 اگست 1942 کو شروع ہونے والی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج ایک مقدس دن ہے، کیونکہ اسی دن مہاتما گاندھی نے ’کرو یا مرو‘ اور ’انگریزوں بھارت چھوڑو‘ کا نعرہ دیا تھا۔‘‘ ان کے مطابق اس تحریک کے نتیجے میں ملک کی عوام متحد ہوئی اور برطانوی حکومت کے دل میں خوف پیدا ہو گیا۔ آخرکار عوام نے انگریزوں کو ملک سے باہر جانے پر مجبور کر دیا۔ کھڑگے نے کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ 8 اگست کے تاریخی دن ہلدوانی میں اتنی بڑی عوامی ریلی منعقد ہو رہی ہے۔ انہوں نے آزادی کی جدوجہد میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس پر طنز کیا اور کہا کہ جو لوگ آزادی کی تحریک میں ملک کے ساتھ نہیں کھڑے ہوئے، وہ آج دوسروں کو حب الوطنی کا درس دے رہے ہیں۔
کانگریس صدر نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان تنظیموں نے ملک اور اس کی آزادی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اصل محب وطن کانگریس کے لوگ ہیں اور بی جے پی-آر ایس ایس میں صرف ’بھگوڑے‘ رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ایسے لوگ انگریزوں کی پناہ میں چلے گئے اور ان کے سامنے سر جھکا کر بیٹھ گئے۔ کھڑگے نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ملک کے مفاد میں کام کیا ہے اور جمہوریت و آئین کی حفاظت کی ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ اور ان کی سیاسی سرگرمیوں کا بھی ذکر اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’راہل گاندھی ملک کے آئین کو بچانے کے لیے کنیاکماری سے کشمیر تک پیدل چلے۔ وہ مسلسل نوجوانوں، کسانوں، غریبوں اور طلبہ کی آواز اٹھانے کا کام کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی ملک کے لوگوں سے ملنے اور ان کے مسائل سمجھنے کے لیے مسلسل عوام کے درمیان جاتے ہیں۔‘‘ کھڑگے نے بی جے پی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا اس پارٹی میں کوئی ایسا لیڈر ہے جو مسلسل عوام کے درمیان جاتا ہو اور ان کے مسائل سنتا ہو؟ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر عوام کے مسائل سننے کے لیے کوئی مسلسل زمین پر اترا ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔
اتراکھنڈ کی سیاست سے متعلق کھڑگے نے بی جے پی کے انتخابی نشان ’کمل‘ پر بھی طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اب تو اس تالاب کا پانی بدل دو، یہ کمل کے پھول کمہلانے لگے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ ان مرجھائے ہوئے پھولوں کو ہٹا دیں، ریاست میں کانگریس کی حکومت بنائیں اور ملک کو آگے بڑھائیں۔ کانگریس صدر نے بی جے پی-آر ایس ایس پر مذہب کے نام پر لوٹ مار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیدارناتھ دھام ہو، بدری ناتھ دھام ہو یا رام مندر، ہر جگہ لوٹ مار کی جا رہی ہے۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ مندروں سے ’چڑھاوا چوری‘ کرنے والے بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ دوسروں کو بھگوان کا مخالف قرار دیتے ہیں۔ جب کانگریس لیڈران اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بات کرنے کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو بی جے پی کے اراکین شور شرابا شروع کر دیتے ہیں۔ بی جے پی اراکین ایسا اس لیے کرتے ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اگر ان کے ’گھوٹالوں‘ اور ’چوری‘ کی بات سب کے سامنے آ گئی تو عوام نہیں چھوڑے گی۔
ملکارجن کھڑگے نے مودی حکومت کی ’ڈبل انجن‘ حکومت کے دعوے پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ’ڈبل انجن‘ حکومت کی بات کرتی ہے، لیکن یہی حکومت ہر سال صرف اپنے تشہیری مہم پر ایک ہزار کروڑ روپے خرچ کر دیتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر یہ پیسہ کس کا ہے؟ کھڑگے نے خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کا پیسہ ہے، عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے، جسے ریاست کے وزیر اعلیٰ اپنی اور نریندر مودی کی تصویریں چمکانے کے لیے برباد کر رہے ہیں۔ کانگریس صدر نے اگنی ویر اسکیم کو بھی مودی حکومت کی نوجوان مخالف پالیسی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت نے ’اگنی ویر یوجنا‘ کے ذریعے جوانوں کے مستقبل کو ختم کر دیا ہے، کیونکہ چار سال کی ملازمت کے بعد نوجوانوں کو واپس گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جیسے ہی کانگریس کی حکومت اقتدار میں آئے گی، جہاں بھی فوج میں اسامیاں ہوں گی، وہاں اگنی ویروں کی بھرتی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اولڈ ایج پنشن نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ملکارجن کھڑگے نے اپنی تقریر میں مسلسل مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں ایسی حکومت چاہیے جو تشہیر اور سیاسی مفادات پر عوام کا پیسہ خرچ کرے یا ایسی حکومت جو نوجوانوں، کسانوں، غریبوں اور عام لوگوں کے مسائل حل کرے۔ انہوں نے عوام سے کانگریس کو مضبوط کرنے اور ریاست میں کانگریس کی حکومت بنانے کی پُرزور اپیل کی۔