ہندوستان میں میک ان انڈیا، آتم نربھر بھارت اور پی ایل آئی جیسے منصوبوں کے ذریعہ گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مقصد ہے کہ ملک ضروری سامان اور صنعتی مصنوعات کے لیے دوسرے ممالک پر کم انحصار کرے، لیکن چین کے معاملے میں تصویر کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ چین سے ہندوستان کی درآمدادت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سطح پر خسارہ بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ راجیہ سبھا میں 7 اگست کو وزارت تجارت و صنعت کی جانب سے دیے گئے جواب کے مطابق 22-2021 میں ہندوستان نے چین سے 94.57 ارب ڈالر کا سامان درآمد کیا تھا۔ 26-2025 میں یہ اعداد و شمار بڑھ کر 131.63 ارب ڈالر ہو گیا، یعنی گزشتہ 5 سالوں میں چین سے ہندوستان کی برآمدات میں تقریباً 39 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر ہندوستانی تجارتی درآمدات میں چین کی حصہ داری بھی 15.43 فیصد سے بڑھ کر 16.96 فیصد ہو گئی۔
واضح رہے کہ درآمدات میں اضافے کا براہ راست اثر ہندوستان-چین تجارتی خسارے پر پڑا ہے۔ 22-2021 میں دونوں ممالک کے درمیان خسارہ 73.31 ارب ڈالر تھا۔ 23-2022 میں یہ 83.20 ارب ڈالر، 24-2023 میں 85.08 ارب ڈالر اور 25-2024 میں 99.20 ارب ڈالر ہو گیا۔ 26-2025 میں یہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر پہنچ گیا، یعنی گزشتہ 5 سال میں خسارہ تقریباً 53 فیصد بڑھ گیا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان چین سے جتنا سامان خرید رہا ہے، اس کے مقابلے چین کو ہندوستانی سامان کی فروخت کافی کم ہے۔ حالانکہ 26-2025 میں چین کو ہندوستان کی برآمدات میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے، لیکن درآمدات کا حجم اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں ہندوستان کی چین کو برآمدات تقریباً 19.47 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 131.63 ارب ڈالر تھیں۔ اس وجہ سے خسارہ 112.16 ارب ڈالر رہا۔
یہاں کہانی صرف موبائل، الیکٹرانک سامان یا تیار مصنوعات کی نہیں ہے۔ ہندوستان کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت، صنعت کاری، شہری کاری اور مینوفیکچرنگ کی توسیع کے لیے بڑے پیمانے پر خام مال، انٹرمیڈیٹ گڈز، مشینری اور تکنیکی آلات کی ضرورت ہے۔ حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ ہندوستان کی درآمدی ضروریات میں لیتھیم، کوبالٹ، نکل، گریفائٹ، ریئر ارتھ ایلیمنٹس اور کاپر جیسے اہم خام مال شامل ہیں۔ یہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجی، الیکٹرک وہیکلز، الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹرز جیسے شعبوں کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ اس کے علاوہ انٹرمیڈیٹ گڈز، کیپیٹل ایکویپمنٹ اور ایڈوانسڈ ٹیکنالوجی بھی ہندوستان کی گھریلو پیداواری صلاحیت کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ حکومت کے مطابق ان کا استعمال توانائی، فارماسیوٹیکلز، کھاد، الیکٹرانکس، سیمی کنڈکٹرز، ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ اور انفراسٹرکچر جیسے اسٹریٹجک شعبوں میں ہوتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ چین نہ صرف گزشتہ 5 سالوں سے ہندوستان کا سب سے بڑا درآمدی شراکت دار رہا ہے بلکہ 26-2025 میں دونوں ممالک کے درمیان یہ فرق مزید بڑھ گیا۔ اس سال چین سے ہندوستان کی درآمدات 131.63 ارب ڈالر رہیں۔ اس کے بعد یو اے ای سے 63.89 ارب ڈالر، روس سے 55.37 ارب ڈالر اور امریکہ سے 53.49 ارب ڈالر کی درآمدات ہوئیں۔ یعنی چین سے ہندوستان کی خریداری یو اے ای کے مقابلے میں تقریباً دوگنی اور امریکہ کے مقابلے میں ڈھائی گنا کے قریب رہی۔










