سرینگر/ یو این ایس / جموں و کشمیر میں سرکاری محکموں اور دیگر اداروں پر بجلی کے بلوں کی مد میں مجموعی طور پر 4385.30 کروڑ روپے کے واجبات باقی ہیں، جن میں محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) سب سے بڑا نادہندہ ہے۔ پی ایچ ای پر 1476.11 کروڑ روپے کے بجلی واجبات ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق محکمہ آبپاشی و فلڈ کنٹرول 594.25 کروڑ روپے کے بقایاجات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ذمہ 344.30 کروڑ روپے کے بجلی بل واجب الادا ہیں۔محکمہ داخلہ پر 297.93 کروڑ روپے اور میونسپل اداروں پر 262.75 کروڑ روپے کے بجلی واجبات ہیں۔اسی طرح فوج کے ذمہ 212.75 کروڑ روپے کے بجلی بل باقی ہیں، جبکہ محکمہ ریونیو و ریلیف پر 170.60 کروڑ روپے اور محکمہ ہاو ¿سنگ و شہری ترقی پر 166.40 کروڑ روپے کے واجبات ہیں۔محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کے ذمے 123.73 کروڑ روپے جبکہ محکمہ صحت و طبی تعلیم پر 100.19 کروڑ روپے کے بجلی واجبات ہیں۔دیگر بڑے نادہندگان میں ملٹری انجینئر سروسز (ایم ای ایس) کے ذمہ 89.50 کروڑ روپے، جموں و کشمیر سیمنٹ کے ذمہ 59.57 کروڑ روپے اور محکمہ سیاحت کے ذمہ 57.90 کروڑ روپے کے بقایاجات شامل ہیں۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صرف پی ایچ ای کے بجلی واجبات ہی مجموعی بقایا رقم کا تقریباً 33.7 فیصد ہیں۔محکموں کے حساب سے بجلی واجبات کی یہ تفصیلات جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد لون کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں حکومت نے فراہم کی ہیں۔










