دنیا اس وقت نئے اور پیچیدہ سکیورٹی چیلنجوںسے دوچار ،تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا // راجناتھ سنگھ
سرینگر// یو این ایس//وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اپنے تین روزہ دورہ جرمنی کے دوران برلن میں جرمن پارلیمنٹ کے اراکین اور بھارتی برادری سے ملاقات کرتے ہوئے بھارت اور جرمنی کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں باہمی شراکت داری اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔یو این ایس کے مطابق جرمن پارلیمنٹ کی دفاع و سلامتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ دنیا اس وقت نئے اور پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہے، جہاں تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ انہوں نے جرمن صنعت کو ‘‘آتم نربھر بھارت’’ اقدام کے تحت مشترکہ تخلیق، تحقیق اور اختراع کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور جرمنی کی صنعتی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کے دفاعی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر ایک مضبوط اور بااعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت اور جرمنی جمہوری اقدار، اختراع اور اقتصادی استحکام کی بنیاد پر ایک دوسرے کے قریب ہیں اور ان کی شراکت داری عالمی سطح پر ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔راجناتھ سنگھ نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تنازعات اب صرف علاقائی نہیں رہے بلکہ ان کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمزکی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ بھارت کی توانائی ضروریات اور اقتصادی استحکام پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط حکمت عملی اختیار کی ہے، جس کے تحت توانائی کی فراہمی، ضروری اشیاء کی دستیابی اور مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔دورے کے دوران راجناتھ سنگھ نے برلن میں مقیم بھارتی برادری سے بھی ملاقات کی اور تقریباً تین لاکھ افراد پر مشتمل بھارتی ڈائسپورا کو بھارت اور جرمنی کے درمیان ‘‘سب سے مضبوط پل’’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کمیونٹی مختلف شعبوں—جیسے کاروبار، ٹیکنالوجی، صحت، تعلیم اور فنون—میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم حصہ ڈال رہی ہے۔انہوں نے بھارتی شہریوں پر زور دیا کہ وہ عالمی سطح پر بھارت کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کریں اور اقتصادی روابط کو مزید گہرا بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی فورمز پر بھارت کی آواز کو سنجیدگی سے سنا جاتا ہے، جو ملک کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔راجناتھ سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ سال 2026 بھارت اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کا سال ہے، جو باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔ انہوں نے بھارتی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی ثقافتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کریں۔انہوں نے بھارت کی تیز رفتار اقتصادی ترقی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر، اسٹارٹ اپس، خلائی تحقیق اور ڈیجیٹل جدت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘آتم نربھر بھارت’’ کا ویژن مقامی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے پر مرکوز ہے۔راجناتھ سنگھ نے اس ملاقات کو ایک اہم اور یادگار موقع قرار دیتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ بھارتی برادری کی جانب سے دیا گیا پرتپاک استقبال دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور دیرپا تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت دنیا بھر میں مقیم بھارتی شہریوں کی فلاح و بہبود اور سلامتی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔یہ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت نہ صرف دفاعی اور اسٹریٹجک سطح پر اپنی شراکت داری کو وسعت دے رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر اپنی کمیونٹی کے ذریعے بھی سفارتی اثر و رسوخ کو مضبوط بنا رہا ہے، جو مستقبل میں بھارت-جرمنی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔










