امریکہ اور ایران کے مابین پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 11 اپریل کو پاکستان ہی کی ثالثی میں جو تاریخی اور براہ راست امن مذاکرات ہوئے، ان میں کوئی معاہدہ نہ ہو سکنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ایران کا جوہری پروگرام بھی تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کی طرف سے ایرانی امریکی امن مذاکرات کے پہلے دور کے بعد بھی ایک سے زائد مرتبہ کہا جا چکا ہے کہ واشنگٹن کا تہران سے کلیدی اہمیت کا مطالبہ یہ ہے کہ تہران خود کو اس بات کا پابند بنائے کہ اس کے پاس ’’کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔‘‘
ساتھ ہی نائب صدر وینس نے تو یہ بھی کہا تھا کہ اگر تہران واشنگٹن کی شرائط منظور کر لیتا ہے، تو امریکہ ایران کی ’’خوشحالی اور ترقی میں مدد‘‘ کرے گا، مزید یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی عالمی معیشت کے مرکزی دھارے میں واپسی میں بھی مدد کرے گی۔
اس پیشکش کی وجہ یہ ہے کہ ایران کے جوہری ارادے گزشتہ دو عشروں سے بھی زائد عرصے سے تہران کے مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات کے دوبارہ معمول پر آ جانے کی راہ میں ’’واحد سب سے بڑی رکاوٹ‘‘ ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہامریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ برس موسم گرما میں اور پھر موجودہ ایران جنگ کے دوران بھی اسلامی جمہوریہ ایران پر جو لگاتار فضائی حملے کیے، ان کے بنیادی محرکات میں بھی ایرانی جوہری پروگرام شامل تھا۔
ایرانی نیوکلیئر پروگرام غیر حقیقت پسندانہ ہے یا نیت کا مسئلہ
بین الاقوامی سطح پر کسی بھی منصوبے خاص کر انجینئرنگ سے متعلق اقتصادیات میں اہم بات یہ ہوتی ہے کہ کیا کچھ لگا کر کیا حاصل کیا جاتا ہے۔ ماہرین اسے ‘لاگت اور فائدے کا تناسب‘ یا ‘وسائل کی واپسی کی شرح‘ جیسے نام بھی دیتے ہیں۔ یوں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کوئی منصوبہ عملا کتنا سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے ایرانی جوہری پروگرام بھی کوئی استثنا نہیں ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام بجلی کی پیداوار اور انرجی سکیورٹی کے لیے ہے، اور صرف پرامن سویلین مقاصد کے لیے، نہ کہ تہران کوئی جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ لیکن اس بارے میں دستیاب ڈیٹا مختلف حقائق اور امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہاں جوہری توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 2041ء تک بڑھا کر 20 گیگا واٹ تک کر دینا چاہتا ہے۔
لیکن جنوبی ایران میں تعمیر کردہ اور 2013ء میں کمرشل بنیادوں پر فعال ہونے والا واحد جوہری بجلی گھر بوشہر میں ہے، جو روس کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ اب تک کام کرنے والا واحد ایرانی جوہری بجلی گھر ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت 1000 میگا واٹ ہے۔ یہ ایران میں پیدا ہونے والی بجلی کی مجموعی پیداوار میں سے صرف ایک فیصد کا ذمے دار ہے۔ ایران میں دیگر ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے لیے بہت زیادہ انحصار قدرتی گیس اور تیل پر کیا جاتا ہے۔
ایران کے پاس تیل اور گیس کے قدرتی ذخائر
امریکہ کی جارج میسن یونیورسٹی کے سینئر وزیٹنگ فیلو اور توانائی سے متعلقہ اسٹریٹیجک امور کے ماہر عمود شکری نے اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ایران کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جن کے پاس تیل اور قدرتی گیس کے دنیا بھر میں سب سے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے ایران اپنے لیے جوہری توانائی کے مقابلے میں بہت کم لاگت پر اپنی قومی ضروریات کے لیے کافی بجلی کی جتنی مقدار چاہے پیدا کر سکتا ہے۔‘‘ عمود شکری کے مطابق ایران تو اپنے ہاں بجلی زیادہ تر قدرتی گیس سے ہی بناتا ہے اور اس کے بوشہر میں قائم واحد فعال نیوکلیئر پاور پلانٹ کی پیداوار کا تناسب بھی انتہائی کم ہے۔
ایسے ہی چند دیگر کلیدی حقائق یہ بھی ہیں کہ ایرانی نیشنل گرڈ میں بجلی کی پیداوار میں موجودہ کمی کا حجم 25,000 میگا واٹ بنتا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے بوشہر کے جوہری بجلی گھر جیسے مزید تقریباﹰ 25 پاور پلانٹ درکار ہوں گے۔ لیکن بوشہر میں تو صرف ایک جوہری بجلی گھر تعمیر کرنے میں ہی قریب 20 برس لگے تھے۔ تو آئندہ برسوں میں ایران اپنے ہاں بجلی کی پیداوار میں موجودہ کمی کو جوہری توانائی کے ساتھ کتنے عرصے میں پورا کر سکے گا؟
‘اقتصادی حوالے سے بھی غیر منطقی‘
چند اندازوں کے مطابق بوشہر کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تکمیل پر تقریباﹰ پانچ بلین ڈالر کے برابر لاگت آئی، جو تقریباﹰ 4.2 بلین یورو کے برابر بنتی تھی۔ لیکن کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خرچ اس منصوبے پر لاگت کے ابتدائی تخیمنوں کے پانچ گنا کے برابر رہا تھا۔ بجلی کی پیداوار جیسے شہری مقاصد کے لیے جوہری مادوں کے استعمال کی خاطر یورینیم کا صرف تین فیصد سے پانچ فیصد تک افزودہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔
ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے کے مطابق ایران نے ایسے یورینیم کا اچھا خاصا ذخیرہ جمع کر رکھا ہے، جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کوئی جوہری ہتھیار بنانے کے لیے 90 فیصد تک افزودہ یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔
عمود شکری کے الفاظ میں، ”ایرانی جوہری پروگرام، اگر اسے حکومت کے بیان کردہ اور بجلی کی پیداوار سمیت صرف پرامن شہری مقاصد کے لیے ہی سمجھا جائے، تو بھی اقتصادی سطح پر کوئی منطقی یا دانش مندانہ فیصلہ نہیں لگتا۔‘‘
انہوں نے کہا کہ بوشہر کے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر کے بہت طویل عرصے اور اس پر اٹھنے والی مجموعی لاگت کو دیکھا جائے، تو وہاں سے حاصل ہونے والی بجلی کی فی کلو واٹ پیداواری لاگت غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔
ان حالات میں ایران کے خلاف عائد بین الاقوامی پابندیوں اور گزشتہ برس کے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد موجودہ ایران جنگ کے اثرات کے ساتھ ساتھ اس کے مادی اور جانی نقصانات کو بھی پیش نظر رکھا جائے، تو تہران اپنے متنازعہ جوہری پروگرام کی بلاشبہ بہت زیادہ قیمت چکا رہا ہے، اتنی ہوش ربا قیمت کہ وہ کسی منطقی فہم کے دائرے میں نہیں آتی۔ (ڈی ڈبلیو)










