فوج کا سخت اور واضح انتباہ، انسانیت کی حدیں پار ہوئیں تو جواب فیصلہ کن ہوگا، انصاف ہو کر رہتا ہے، بھارت متحد ہے// فوج
سرینگر/ یو این ایس//فوج نے پہلگام میں پیش آئے ہولناک دہشت گرد حملے کی پہلی برسی کے موقع پر ایک انتہائی سخت اور دوٹوک پیغام جاری کرتے ہوئے دہشت گردی کے مرتکبین کو خبردار کیا ہے کہ اگر ‘‘انسانیت کی سرحدوں کو پامال کیا گیا تو اس کا جواب نہ صرف فوری بلکہ فیصلہ کن ہوگا’’۔ فوج کے اس بیان کو قومی سلامتی کے حوالے سے ایک مضبوط اور غیر مبہم مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس نے ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف جاری عزم کو ایک بار پھر نمایاں کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پورا ملک پہلگام میں 22 اپریل 2025 کو پیش آنے والے خونریز حملے کی پہلی برسی منا رہا ہے۔ اس سانحے میں 26 بے گناہ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جن میں 25 سیاح اور ایک مقامی پونی والا عادل شاہ شامل تھے۔ یہ حملہ نہ صرف جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک کے لیے ایک شدید صدمے کا باعث بنا تھا، جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔اس اندوہناک واقعے کی یاد میں بیسرن وادی کے دلکش مگر اب دردناک یادوں سے جڑے مقام پر دریائے لدر کے کنارے سیاہ سنگِ مرمر سے ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے۔ اس یادگار پر تمام 26 مہلوکین کے نام کندہ کیے گئے ہیں، جو نہ صرف ان کی قربانی کو امر بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو اس سانحے کی یاد دلاتی رہے گی۔ مقامی انتظامیہ اور عوامی حلقے اس یادگار کو ایک علامتی پیغام قرار دے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے سامنے جھکنا ممکن نہیں۔فوج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے پیغام میں کہا’’جب انسانیت کی حدیں پار ہو جائیں تو جواب فیصلہ کن ہوتا ہے۔ انصاف ہو کر رہتا ہے، بھارت متحد ہے۔‘‘اس کے ساتھ جاری کیے گئے ایک علامتی پوسٹر میں بھارت کے نقشے کو ایک سائے کی شکل میں دکھایا گیا، جس پر نمایاں الفاظ میں لکھا تھا’’کچھ حدیں کبھی پار نہیں کی جانی چاہئیں’’ جبکہ نیچے سرخ رنگ میں یہ جملہ درج تھا‘‘بھارت کبھی نہیں بھولتا۔‘‘اس پوسٹر میں لفظ ’’کراسڈ‘‘کے اندر ’سندور‘ کی علامت بھی شامل کی گئی تھی، جو اپریشن سندورکی طرف اشارہ کرتی ہے—وہ فوجی کارروائی جو اس حملے کے بعد دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف کی گئی تھی۔اس کے ساتھ ہی، متاثرہ خاندانوں کا درد آج بھی کم نہیں ہوا۔ ایک سال گزرنے کے باوجود ان کے زخم تازہ ہیں اور وہ اس صدمے سے مکمل طور پر باہر نہیں آ سکے۔ کیرالہ سے تعلق رکھنے والے 65 سالہ سیاح این رام چندرن، جو اپنی اہلیہ، بیٹی اور پوتوں کے ساتھ کشمیر کی سیر پر آئے تھے، اس حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی بیٹی آرتھی آر مینون، جنہوں نے اپنے والد کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے دیکھا، آج بھی اس صدمے کے بارے میں بات کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ ویسا ہی ہے، ایک سال گزرنے کے باوجود کچھ نہیں بدلا۔اسی طرح بھارتی بحریہ کے نوجوان افسر لیفٹیننٹ ونئے نروال، جو اپنی شادی کے بعد ہنی مون کے لیے پہلگام آئے تھے، دہشت گردوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ ان کے والد نے اس واقعے کو نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پوری قوم کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔فوج کے اس سخت پیغام اور متاثرہ خاندانوں کی درد بھری داستانوں نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات معاشرے، خاندانوں اور آنے والی نسلوں تک پھیلتے ہیں۔










