وزیراعلیٰ کو حادثے کے متاثرہ اَفراد کو فراہم کئے جارہے علاج اور نگہداشت کے بارے میں جانکاری دی گئی
اودھمپور//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گورنمنٹ میڈیکل کالج اودھمپور کا دورہ کیا اور اِس ہفتے کے شروع میں پیش آئے المناک سڑک حادثے میں زخمیوں کی عیادت کی۔ اُنہوں نے زخمیوں اور اُن کے اہل خانہ سے بات چیت کی اور حکام کو چوبیس گھنٹے نگرانی کے ساتھ بہترین ممکنہ طبی سہولیات کو یقینی بنانے کی ہدایت دِی۔وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو اور وزیربرائے ٹرانسپورٹ ستیش شرما بھی تھے۔ اُنہوں نے ہسپتال کی سہولیات کا تفصیلی معائینہ کیا۔ اِس موقعہ پر ضلع ترقیاتی کمشنر اودھمپور منگا شیرپا، کمشنر ٹرانسپورٹ جموں و کشمیر وشیش پال مہاجن، ڈی آئی جی اودھمپور۔ریاسی رینج، ایس ایس پی نیشنل ہائی وے، پرنسپل جی ایم سی اودھمپور، ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر جموں، میڈیکل سپراِنٹنڈنٹ جی ایم سی اودھمپور اور دیگر متعلقہ اَفسران بھی موجود تھے۔اِس کے علاوہ دورے کے دوران سول اِنتظامیہ، پولیس اور طبی شعبے کے سینئر اَفسران بھی موجودتھے۔وزیراعلیٰ نے ہسپتال کے ٹراما سینٹر، آئی سی یو، آرتھوپیڈک اور سرجری وارڈوں سمیت مختلف شعبہ جات کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے ہر زخمی مریض سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی اور ان کی حالت، علاج کے طریقہ کار، اَدویات کی دستیابی، زخموں کی نوعیت اور متوقع ڈسچارج کے بارے میں دریافت کیا۔ڈاکٹروںکی ٹیم نے وزیر اعلیٰ کو جاری علاج، سرجریز اور دیگر طبی اَقدامات کے ساتھ ساتھ مریضوں کی صحتیابی کی پیش رفت کے بارے میں بھی بتایا۔وزیراعلیٰ نے متاثرہ کنبوں کو مکمل تعاون کی یقین دِلاتے ہوئے مستقبل میں ایسے حادثات کی روکتھام کے لئے سخت اَقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ بعد میں اُنہوں نے ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی جس میں زخمیوں کو فراہم کئے جا رہے علاج اور جی ایم سی اودھمپور کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ میں حادثے کی اِبتدائی وجوہات اور جاری تحقیقات کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔اُنہوں نے روڈ سیفٹی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی کہ مختلف روٹوں پر بسوں کی مناسب تعداد یقینی بنائی جائے اور اوورلوڈنگ پر سختی سے قابو پایا جائے۔ اُنہوں نے کہا،’’ان معاملات میں کسی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘اِس موقعہ پر حکام نے وزیر اعلیٰ کو روڈ ایکسیڈنٹ وکٹم فنڈ کے تحت فراہم کی جانے والی امداد کے بارے میں بتایا جس میں موت کی صورت میں ایک لاکھ روپے، مستقل معذوری کے لئے 75,000روپے، شدید زخمی ہونے پر 50,000 روپے اور معمولی زخمی ہونے پر 10,000 روپے کی مالی مدد شامل ہے۔وزیر اعلیٰ نے مزید ہدایت دی کہ تمام متعلقہ محکمے صحت، تعلیم اور سماجی بہبود سمیت مختلف فلاحی سکیموں کے ذریعے متاثرین اور اُن کے اہل خانہ کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کی جائے تاکہ بحالی کے دوران ایک جامع سپورٹ سسٹم کو یقینی بنایا جائے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حادثے کے فوراً بعد متاثرین کے لئے چیف منسٹرز ریلیف فنڈ سے فوری امداد کا اعلان کیا تھاجس کے تحت ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کے لئے 2 لاکھ روپے، شدید زخمیوں کے لئے 1 لاکھ روپے اور معمولی زخمیوں کے لئے,000 25 روپے کی ایکس گریشیا اِمداد شامل ہے۔










