ممبئی/ایجنسیز//2006 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں بمبئی ہائی کورٹ نے تمام ملزمین کے خلاف الزامات ختم کر دیئے ہیں۔جہاں بمبئی ہائی کورٹ نے آج تمام چار ملزمین کے خلاف الزامات کو ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ تقریباً دو دہائیوں پر محیط قانونی کارروائی کے باوجود کسی بھی ملزم کو سزا نہیں مل سکی۔عدالت کی بنچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس شیام چاندک کر رہے تھے، نے خصوصی عدالت کے ستمبر 2025 کے اس حکم کو کالعدم قرار دیا جس میں ملزمین پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ملزمین کی جانب سے دائر اپیلوں پر سنایا گیا۔سماعت کے دوران دفاعی وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ این آئی اے کے پاس کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہ کوئی چشم دید گواہ تھا اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت ملا جو ملزمین کو جرم سے جوڑ سکے۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ شناختی پریڈ واقعہ کے چھ سال بعد کرائی گئی، جس سے گواہوں کی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں۔مدھیہ پردیش سے حاصل کیے گئے مٹی کے نمونوں میں آر ڈی ایکس کے کوئی آثار نہیں ملے، جس سے تفتیشی دعوؤں پر مزید شبہ پیدا ہوا۔یہ دھماکہ 8 ستمبر 2006 کو مہاراشٹرا کے ضلع ناسک کے شہر مالیگاؤں میں ایک قبرستان کے قریب پیش آیا تھا، جس میں 37 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
ابتدائی طور پر مہاراشٹرا اینٹی ٹیررزم اسکواڈ نے نو مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، جنہیں 2012 میں ضمانت مل گئی۔I/H










