بھارت ٹیکنالوجی کے پیروکار سے عالمی قائد کے طور پر ابھر رہا ہے//ڈاکٹر جتیندر سنگھ
سرینگر// یو این ایس// مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی علوم اور وزیراعظم کے دفتر کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ملک میں آنے والی تکنیکی تبدیلیوں نے “وکست بھارت 2047” کی بنیاد رکھ دی ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت ٹیکنالوجی کا محض صارف یا پیروکار رہنے کے بجائے عالمی سطح پر ایک قائدانہ کردار ادا کرنے کی جانب گامزن ہے۔دوردرشن نیوز کو دیے گئے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ماضی میں بھارت نئی ٹیکنالوجیز کو دیگر ممالک کے بعد اپناتا تھا، تاہم اب ملک نہ صرف جدید ترین عالمی ٹیکنالوجیز کی ترقی میں شریک ہے بلکہ بعض شعبوں میں مستقبل کی جدت طرازی کی سمت متعین کرنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کے دوران سائنسی صلاحیتوں، اختراعی نظام اور تکنیکی بنیادی ڈھانچے میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے 2047 تک ایک ترقی یافتہ بھارت کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کی مضبوط بنیاد فراہم کی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو قومی پالیسی سازی کا مرکزی جزو بنایا، نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا اور اختراع پر مبنی کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی، جس کے نتیجے میں ملک میں ایسا تکنیکی نظام تشکیل پایا جو اقتصادی ترقی، قومی سلامتی اور عوامی خدمات کی فراہمی میں بیک وقت معاون ثابت ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے خلائی سائنس، جوہری توانائی، کوانٹم ٹیکنالوجی، بایو ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور صاف توانائی جیسے اہم شعبوں میں قابل ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق یہی شعبے مستقبل کے ترقی یافتہ بھارت کی سائنسی اور تکنیکی بنیاد بنیں گے۔خلائی شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ نجی شعبے کے لیے دروازے کھولنے کے بعد بھارت دنیا کے متحرک ترین خلائی ماحولیاتی نظاموں میں شامل ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلائی شعبے سے وابستہ اسٹارٹ اپس کی تعداد چند ایک سے بڑھ کر 400 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ بھارت کی خلائی معیشت، جس کا حجم اس وقت تقریباً 9 ارب امریکی ڈالر ہے، آئندہ برسوں میں مزید وسعت اختیار کرنے کی توقع ہے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی اب مواصلات، بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی، حکمرانی، قدرتی آفات سے نمٹنے، زراعت اور قومی سلامتی جیسے شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر کی پیش رفت کو ملک کی طویل مدتی توانائی حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے توانائی کے شعبے میں خود کفالت اور تحفظ کو مزید تقویت ملے گی۔قومی کوانٹم مشن کے تحت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے دو ہزار کلومیٹر طویل کوانٹم کمیونیکیشن نیٹ ورک کے ہدف کا تقریباً نصف حصہ ابتدائی برسوں میں ہی حاصل کر چکا ہے، جو اس شعبے میں ملک کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔یو این ایس کے مطابق بایو ٹیکنالوجی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بھارت “بایو ای تھری پالیسی” کے ذریعے صنعتی انقلاب کی نئی بنیاد رکھ رہا ہے۔ جینوم سیکوینسنگ، نایاب بیماریوں کی تشخیص، مقامی سطح پر ادویات کی تیاری اور جین تھراپی جیسے شعبوں میں ہونے والی پیش رفت ملک کی سائنسی خود اعتمادی کو مضبوط بنا رہی ہے۔مصنوعی ذہانت کے بارے میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اے آئی حکمرانی، صحت، زراعت، مواصلات اور سائنسی تحقیق سمیت متعدد شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لا رہی ہے۔ ان کے مطابق “انڈیا اے آئی مشن” کے تحت کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سیٹس اور اختراعی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرکے مستقبل کی ڈیجیٹل قیادت کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کا اختراعی ماحولیاتی نظام تیزی سے وسعت اختیار کر چکا ہے، جس کا اندازہ اسٹارٹ اپس کی بڑھتی تعداد، پیٹنٹس کے اندراج، عالمی اختراعی درجہ بندی میں بہتری اور سائنسی تحقیقی اشاعتوں میں اضافے سے لگایا جا سکتا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ صاف توانائی کے میدان میں بھارت جوہری توانائی، گرین ہائیڈروجن، شمسی توانائی اور سمندری توانائی کے نئے ذرائع پر کام کر رہا ہے، جو 2070 تک نیٹ زیرو اخراج کے ہدف کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل میں بلیو اکانومی، گہرے سمندری وسائل، ہمالیائی حیاتیاتی ذخائر، جدید بایو ٹیکنالوجی اور نئی نسل کی مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجیز بھارت کی ترقی کے اہم محرک بنیں گی۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ گزشتہ بارہ برسوں کا سفر دراصل ایک وسیع قومی تبدیلی کا نقط آغاز ہے اور اسی بنیاد پر بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ، خود کفیل اور علم پر مبنی عالمی معیشت کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔










