اسکولوں کیلئے 1,915 آئی سی ٹی لیبارٹریاں اور 3,910 اسمارٹ کلاس روم منظور
سرینگر// مرکزی وزارتِ تعلیم نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت مالی سال 2021-22 سے 2025-26 کے دوران جموں و کشمیر کے سرکاری اسکولوں کے لیے مجموعی طور پر 1,915 آئی سی ٹی ،لیبارٹریاں اور 3,910 اسمارٹ کلاس روم کی منظوری دی گئی ہے۔یو این ایس کے مطابق یہ معلومات مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم جینت چودھری نے لوک سبھا میں تحریری جواب میں فراہم کیں۔وزارت کے مطابق جموں و کشمیر میں 2025-26 کے دوران 534 آئی سی ٹی لیبارٹریاں، 2024-25 میں 598، 2023-24 میں 172، 2022-23 میں 203 اور 2021-22 میں 408 آئی سی ٹی لیبارٹریاںکی منظوری دی گئی۔ اسی عرصے میں اسمارٹ کلاس رومز کی تعداد بالترتیب 1001، 1703، 372، 834 اور صفر رہی۔مرکزی حکومت نے ان پانچ برسوں کے دوران جموں و کشمیر میں آئی سی ٹی لیبارٹریاں اور اسمارٹ کلاس روم کے قیام کے لیے مجموعی طور پر 15,475.6 لاکھ روپے، یعنی تقریباً 154.75 کروڑ روپے کی مالی منظوری دی۔ سالانہ بنیادوں پر 2025-26 میں 3,948.3 لاکھ روپے، 2024-25 میں 5,573.9 لاکھ روپے، 2023-24 میں 1,330.7 لاکھ روپے، 2022-23 میں 3,300.8 لاکھ روپے اور 2021-22 میں 1,321.9 لاکھ روپے منظور کیے گئے۔ا۔وزارت کے مطابق ملک بھر میں ان پانچ برسوں کے دوران 73,308 آئی سی ٹی لیبارٹریاںاور 1,36,382 اسمارٹ کلاس رومز منظور کیے گئے، جن میں سے 37,511 آئی سی ٹی لیبارٹریاں اور 82,856 اسمارٹ کلاس روم مکمل ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر کے حصے میں آنے والی آئی سی ٹی لیبارٹریاں قومی منظوری کا تقریباً 2.6 فیصد جبکہ اسمارٹ کلاس رومز تقریباً 2.9 فیصد بنتے ہیں۔وزارت نے بتایا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت آئی سی ٹی لیبارٹریاں ا اور اسمارٹ کلاس رومز ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی سالانہ ورک پلان اور بجٹ تجاویز کی بنیاد پر منظور کیے جاتے ہیں تاکہ سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔مرکزی حکومت نے مزید کہا کہ پی ایم ای ودیا اور دیکشا جیسے ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیمی پروگرام بھی سمگر شکشا کے تحت نافذ کیے جا رہے ہیں۔










